ریکو ڈ ک منصوبہ: مقامی اقتصادی ترقی کی نئی امید یا چیلنج؟

کوئٹہ: بلوچستان کو درپیش سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود ریکوڈک کا اربوں ڈالر مالیت کا تانبہ و سونا منصوبہ پاکستان کی معدنی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ حکام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مطابق منصوبہ 2028 میں کمرشل پیداوار کے ہدف پر بدستور قائم ہے، جسے مقامی اقتصادی ترقی کے تناظر میں گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔

منصوبے کی آپریٹر کینیڈین کمپنی Barrick Gold، جو ریکوڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد حصص رکھتی ہے، نے جاری جائزہ عمل کو معمول کی کارپوریٹ ذمہ داری قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایک لسٹڈ ادارہ ہونے کے ناطے اسے کینیڈین قوانین کے تحت اپنے آپریشنز کا باقاعدہ جائزہ اور رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے، جس کا مقصد شفافیت، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ہے۔

ذرائع کے مطابق 1.3 ارب ڈالر کے امریکی ایکسِم بینک قرضے کی منظوری دسمبر 2025 میں دی جا چکی ہے اور سرمائے کا حصول ایک مسلسل عمل ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آپریشنل پیش رفت کا انحصار مکمل طور پر بیرونی فنانسنگ پر نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ طے شدہ شرائط کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو یہ بلوچستان میں مقامی اقتصادی ترقی کو نمایاں طور پر تقویت دے سکتا ہے۔ کمپنی ذرائع کے مطابق تعمیراتی سامان اور حتیٰ کہ پینے کا معدنی پانی بھی صوبے کے اندر سے خریدا جا رہا ہے تاکہ مقامی کاروبار کو فائدہ پہنچے۔

ملازمتوں کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 70 فیصد بھرتیاں بلوچستان سے کی جا رہی ہیں، جن میں کان کے قریب واقع علاقوں کے نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حکمتِ عملی سے مقامی آمدنی میں اضافہ، ہنر مندی کی ترقی اور چھوٹے کاروباروں کی توسیع ممکن ہو سکتی ہے۔

نجی معدنی حلقوں اور اسلام آباد و کوئٹہ کے حکام منصوبے کے مستقبل کے بارے میں محتاط امید رکھتے ہیں، تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صوبے میں سیاسی بے چینی اور سیکیورٹی خدشات اہم چیلنج ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی آبادی کے تحفظات کو نظرانداز کرنا طویل المدتی اقتصادی فوائد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ایک ماہر نے کہا کہ اگرچہ معاہدہ مثالی نہیں، لیکن اس پر مؤثر عملدرآمد سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ریاست کو اختلافی آوازوں سے بامعنی مکالمہ کرنا ہوگا کیونکہ منصوبے کا مستقبل صوبے اور اس کے عوام سے جڑا ہوا ہے۔

ابتدائی طور پر پاکستانی نجی کان کنی کمپنیوں نے منصوبے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم لاگت 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد یہ امکان محدود ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق ملکیت کے ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی سے شراکت داروں کے درمیان توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

ریکوڈک منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معدنی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ بلوچستان میں مقامی اقتصادی ترقی، روزگار، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی خوشحالی کے لیے بھی کلیدی حیثیت اختیار کر سکتا ہے — بشرطیکہ اس کے ثمرات منصفانہ اور شفاف انداز میں مقامی آبادی تک پہنچائے جائیں

متعلقہ خبریں