جنگلات کے پائیدار انتظام پر کھلی کچہری کا انعقاد
پشاور:محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے جمعرات کے روز جنگلات کے پائیدار انتظام کے موضوع پر ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومت اور جنگلات کے مالکان کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا، مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانا اور باہمی اعتماد و تعاون کو فروغ دینا ہے۔
کھلی کچہری میں سیکریٹری جنگلات جنید خان، ایڈیشنل سیکریٹری احمد کمال، چیف کنزرویٹرز احمد جلیل (فارسٹ ریجن-I)، شوکت فیاض (ریجن-II) اور اصغر خان (ریجن-III) سمیت متعلقہ افسران اور ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژنز سے جنگلات کے مالکان کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اس موقع پر ضلع بٹگرام کے حلقہ علائی سے رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان اور چترال کے علاقے ارندو سے سماجی شخصیت شیر زمین بھی موجود تھے، جنہوں نے نچلی سطح پر درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی۔
جاری بیان کے مطابق جنگلات کے مالکان نے ورکنگ پلانز کی میعاد ختم ہونے یا تکمیل کے قریب ہونے، مانیٹرنگ، مارکنگ، ووڈ لاٹس اور بعض انتظامی امور سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنید خان نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، شفافیت اور بروقت فیصلوں کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کا مقصد احتساب، اصلاحِ احوال اور نظام میں بہتری لانا ہے، نہ کہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا کرنا۔
انہوں نے کہا کہ 1992 میں سائنسی بنیادوں پر لکڑی کی کٹائی پر عائد پابندی کے باعث صوبے میں جنگلات کے انتظام اور مالی استحکام کو شدید دھچکا پہنچا۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ محکمہ جنگلات یکطرفہ فیصلے کرتا ہے، اور کہا کہ شجرکاری، فاریسٹ گارڈز کی تعیناتی، گھریلو ضروریات کی تکمیل اور منظور شدہ ورکنگ پلانز کے تحت تجارتی کٹائی سمیت ہر مرحلے پر مقامی آبادی کو شامل کیا جاتا ہے۔
سیکریٹری نے زور دیا کہ پائیدار ترقی مقامی برادری کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن ورکنگ پلانز کی مدت ختم ہو چکی ہے، ان کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر نظرثانی کی جائے اور اس مقصد کے لیے فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل کو مناسب فنڈز فراہم کیے جائیں۔