میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کچی آبادیوں میں غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر انہیں روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور کسی بھی قسم کی ٹرانزٹ پر پابندی عائد کردی ہے.
رپورٹ کے مطابق میئرکراچی نے حسرت موہانی کالونی، محمود آباد نالے، غوثیہ کالونی میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے لہٰذا عوام کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا حصہ نہ بنیں بصورت دیگر کسی بھی غیرقانونی تعمیر، لیز اور دیگر معاملات میں شامل ہونے پر وہ اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
کے ایم سی کے جو ملازمین غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں نوکری سے بھی برخاست کیا جائے گا، یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز اپنے دفتر میں محکمہ کچی آبادی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں میونسپل کمشنر افضل زیدی، مشیر مالیات گلزار علی ابڑو، سینئر ڈائریکٹر کچی آبادی فراز انور شیخ اور متعلقہ تمام افسران نے شرکت کی۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہدایت کی کہ کے ایم سی کی 202 کچی آبادیوں کے نقشہ جات بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ویب سائٹ پر جاری کردیئے جائیں گے، پبلک پراپرٹی عوام کے لئے ہے اور اس سے متعلق تمام عمل شفاف ہونا چاہئے، نالوں پر کسی بھی قسم کی تعمیرات غیر قانونی ہیں انہیں فوری روکا جائے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچی آبادیوں میں کثیر المنزلہ عمارات، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز بنانا غیر قانونی ہے وہاں قانون کے مطابق صرف گرائونڈ اور ایک منزل ہی تعمیر ہوسکتی ہے، کچی آبادیوں میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی شروع کی جائے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس سالوں میں جو کچھ اس شہر کے ساتھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہے اب مزید غیرقانونی کام برداشت نہیں کئے جائیں گے، شہر اور کے ایم سی کے مفاد میں کام کرنے والے افسران کا پورا ساتھ دیا جائے گا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013 کے تحت کے ایم سی کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کو منجمد کرے، جرمانے عائد کرے اور ان تمام تعمیرات کو مسمار کرسکے، افسران ان اختیارات کو استعمال کریں اور ایسی تمام تعمیرات کو قائم نہ ہونے دیں جو غیرقانونی طور زیر تعمیر ہیں ۔