راولپنڈی ڈویژن میں کھلے مین ہولز کا ریکارڈ موجود نہیں، کمشنر کا 24 گھنٹوں میں مکمل سروے کا حکم

راولپنڈی: لاہور میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد راولپنڈی ڈویژن میں کھلے مین ہولز سے متعلق ڈیٹا کی عدم دستیابی سامنے آنے پر کمشنر راولپنڈی عامر خٹک نے ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو فوری سروے کر کے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

کمشنر آفس میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راولپنڈی، اٹک، چکوال، مری اور جہلم میں یونین کونسل کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو اپنے اپنے علاقوں کا مکمل سروے کر کے کھلے یا خراب مین ہولز کی نشاندہی کریں اور تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر واسا سلیم اشرف، ڈی جی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی احمد حسن رنجھا، ڈائریکٹر ہیلتھ، چیف آفیسر راولپنڈی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ مری، اٹک، چکوال اور جہلم کے ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی شہر میں واسا کے تقریباً 36 ہزار مین ہولز موجود ہیں، تاہم گیریژن سٹی کے صرف 40 فیصد حصے میں سیوریج سسٹم دستیاب ہے۔ واسا حکام کا کہنا تھا کہ بیشتر مین ہولز ڈھکے ہوئے ہیں اور ادارے نے اضافی ڈھکن بھی خرید لیے ہیں۔

ان رپورٹس کی روشنی میں کمشنر نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی مقام پر کوئی مین ہول کھلا نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ مین ہول کورز اور صفائی کے معاملات پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے پرفارمنس مانیٹرنگ انڈیکیٹرز میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ براہ راست عوامی تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

کمشنر نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر اپنے اردگرد کسی بھی کھلے یا ٹوٹے ہوئے مین ہول کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ کو دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مین ہول کورز اور صفائی سے متعلق تمام عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے مقامات پر عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ تعمیراتی مشینری یا جاری کام راہگیروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، لہٰذا ایسے مقامات کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے اور نمایاں انتباہی سائن بورڈز نصب کیے جائیں۔

کمشنر راولپنڈی نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں صفائی ستھرائی اور انتظامی اقدامات کو مؤثر بنائیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں