ٹھٹھہ اور سجاول میں پانی و نکاسی آب کے مسائل کے حل کے لیے 14 ارب روپے کا منصوبہ منظور
ٹھٹھہ: سندھ حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے ضلع ٹھٹھہ اور سجاول میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بحالی کے لیے 14 ارب روپے کے بڑے منصوبے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔
صوبائی وزیر ورکس، سروسز اینڈ جیل خانہ جات علی حسن زرداری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کے تحت نکاسی آب کے نظام کو جدید بنایا جائے گا جبکہ خطے کی اہم آبی گزرگاہ جام برانچ کینال کی بحالی بھی کی جائے گی تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں کینجھر اور ہالیجی جھیلوں کو باہم منسلک کرنے کا بھی منصوبہ شامل ہے، جس سے میٹھے پانی کی بہتر تقسیم، مقامی ماحولیاتی نظام کے استحکام اور زیریں علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
علی حسن زرداری نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے دونوں اضلاع میں نکاسی آب کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، پانی کی دستیابی بہتر ہوگی اور ماحولیاتی پائیداری کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی محصولات میں کمی کے باعث تمام صوبے مالی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی آمدنی ہدف سے کم رہی، جس کے نتیجے میں سندھ سمیت پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بجٹ بھی متاثر ہوئے ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ سندھ حکومت اہم ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مالی مشکلات کے باوجود بنیادی ڈھانچے کے منصوبے متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ زیریں سندھ میں پانی کی شدید قلت پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر آبپاشی وفاقی حکام سے صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔
بعد ازاں علی حسن زرداری نے معروف ماہر آبپاشی، آبی امور کے ماہر اور مصنف انجینئر محمد اوبایو خان خشک کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔ انہوں نے مرحوم کو سندھ کے آبی حقوق کے لیے مضبوط آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انجینئر اوبایو خان خشک نے اپنی پوری زندگی سندھ کے پانی کے حقوق کے تحفظ، تحقیق اور شواہد پر مبنی تجاویز پیش کرنے کے لیے وقف کر دی تھی۔