پانی کے بحران پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے: اسپیکر قومی اسمبلی
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پاکستان میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کو عارضی اقدامات کے بجائے پائیدار حل کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
پارلیمانی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ پانی جمع کرنے اور محفوظ کرنے کے نظام کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کی سطح پر پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پائیدار نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زیر زمین پانی کی سطح بہتر کی جاسکے اور پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پانی کی فراہمی اور تحفظ اب محض ایک شعبے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی کا اہم معاملہ بن چکا ہے۔ ان کے بقول پانی کا تحفظ انسانی سلامتی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر تعاون کے بغیر ملک کے آبی وسائل کا مؤثر انتظام ممکن نہیں۔
اسپیکر نے قومی آبی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے شفاف استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ عوامی پالیسیوں کی مؤثر نگرانی بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے پانی کے ذخائر، چھوٹے ڈیموں اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پانی کے ضیاع میں کمی اور زیر زمین پانی کے ذخائر کی بحالی ایک جامع آبی تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 50 برس کے دوران پانی کا کوئی نیا بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا۔ انہوں نے موجودہ ذخائر کی گنجائش بڑھانے اور نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث پانی کی بڑھتی ہوئی کمی سے نمٹا جاسکے۔
احسن اقبال نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقم کا حجم 2018 میں مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد سے کم ہوکر 2026 میں 0.6 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں برسوں میں ترقیاتی پروگرام کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے مختص کیے گئے، تاہم مہنگائی کو مدنظر رکھا جائے تو موجودہ رقم کی حقیقی قدر تقریباً 250 سے 300 ارب روپے کے برابر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے شعبے میں مقامی سطح پر کامیاب ثابت ہونے والے کم لاگت منصوبوں کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لیے ترقیاتی فنڈز کا مؤثر استعمال، مقامی حکومتوں کے لیے بہتر مالی وسائل اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مضبوط مالی نظام ضروری ہے۔
پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقیاتی اہداف کی کنوینر شائستہ پرویز نے کہا کہ پانی کا تحفظ صرف پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ دستیاب آبی وسائل کے پائیدار استعمال اور بہتر انتظام کا بھی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبی وسائل کو بہتر بنانا مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور ان وسائل کا تحفظ اور مزید بہتری ضروری ہے۔
سیمینار میں ارکان قومی اسمبلی، سرکاری افسران اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، عالمی بینک، واٹر ایڈ اور یونیسیف کے نمائندوں نے شرکت کی۔
SEO Keyphrase: پاکستان پانی کا بحران قومی اتفاق رائے آبی تحفظ