لاہور میں مون سون کی ریکارڈ بارش، شہر کا انفراسٹرکچر دباؤ کا شکار، سڑکیں زیر آب اور کئی مقامات پر سنک ہولز نمودار

لاہور: مون سون کے تیسرے مسلسل روز ہونے والی ریکارڈ بارش نے لاہور میں معمولات زندگی مفلوج کر دیے۔ شہر کی اہم شاہراہیں، انڈر پاسز اور رہائشی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ کئی مقامات پر سڑکیں دھنسنے اور بڑے بڑے سنک ہولز بننے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

واسا کے مطابق لاہور ایئرپورٹ پر 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو رواں مون سون سیزن کی اب تک کی سب سے زیادہ بارش ہے۔ دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں مجموعی طور پر 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شدید بارش کے باعث تاجپورہ انڈر پاس مکمل طور پر زیر آب رہا اور دن بھر ٹریفک کے لیے بند رہا۔ پانی جمع ہونے سے متعدد علاقوں میں سڑکوں کے نیچے کی مٹی بہہ گئی، جس کے نتیجے میں کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ، بھیکھے والا موڑ اور خیابانِ فردوسی سمیت مختلف مقامات پر بڑے سنک ہولز بن گئے اور سڑکوں کے حصے بیٹھ گئے۔

ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر بند کر کے ٹریفک متبادل راستوں پر منتقل کر دی جبکہ واسا کی ٹیموں نے نکاسی آب اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔

ماہرین کے مطابق شدید بارش، زیر زمین پانی کے رساؤ، سیوریج لائنوں کی خرابی اور زمین کی ناقص کمپیکشن کے باعث مٹی کمزور ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں کے نیچے خلا پیدا ہو جاتا ہے اور بھاری ٹریفک کے دباؤ سے سڑکیں اچانک دھنس جاتی ہیں۔

بارش سے شہر کے متعدد نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ شہریوں کو گھروں سے پانی نکالنے کے لیے بالٹیوں کا استعمال کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ایئرپورٹ، تاجپورہ، مغل پورہ، اپر مال، جوہر ٹاؤن، شادی پورہ، کاہنہ، مناواں، ڈی ایچ اے، عسکری-10، علی ویو سوسائٹی اور پیراگون سٹی شامل ہیں۔

واسا کے اعداد و شمار کے مطابق تاجپورہ میں 157.4 ملی میٹر، کاہنہ میں 143.4 ملی میٹر، شادی پورہ میں 136 ملی میٹر، مغل پورہ میں 133 ملی میٹر، اپر مال میں 116 ملی میٹر، مناواں میں 106 ملی میٹر اور جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

پیراگون سٹی اور دیگر علاقوں کے مکینوں نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک گلیوں میں ایک فٹ سے زائد پانی کھڑا رہا جبکہ بارکی روڈ پر جاری تعمیراتی کام اور بارش کے پانی نے ٹریفک کو مکمل طور پر جام کر دیا۔

واسا لاہور کے منیجنگ ڈائریکر غفران احمد نے کہا کہ ادارے نے جمع شدہ بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اہم انڈر پاسز اور حساس مقامات کی نگرانی 200 سے زائد لائیو کیمروں کے ذریعے مسلسل کی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ، ڈی ایچ اے، کینٹ، تاجپورہ، اپر مال اور ڈیفنس روڈ کے علاقوں میں ریکارڈ بارش کے باعث نکاسی آب میں زیادہ مشکلات پیش آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینٹ کے علاقوں میں نکاسی آب کی بنیادی ذمہ داری کینٹ بورڈ کی ہے، تاہم واسا نے ضرورت کے مطابق معاونت فراہم کی۔

ادھر سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے تاجپورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کی جلد از جلد نکاسی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔

شدید بارش کے باعث لاہور کے مختلف علاقوں میں 11 کے وی کے متعدد بجلی فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی احتیاطی اقدامات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث معطل رہی۔

متعلقہ خبریں