نئے صوبوں کے مطالبے پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم آمنے سامنے، سندھ کی تقسیم پر سیاسی محاذ آرائی تیز

کراچی: سندھ میں نئے انتظامی صوبوں کے قیام کے مطالبے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات صرف سیاسی مایوسی اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہیں، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطالبہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی چار صوبوں کے انتظامی معاملات سے دوچار ہے، ایسے میں نئے صوبوں کی بات کرنا غیر سنجیدہ طرزِ سیاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور انہیں سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ناصر شاہ نے سندھ کے مالی وسائل بیرون ملک منتقل کیے جانے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے کرنے والوں کو پہلے اپنی وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں رہنے والا ہر شہری اس دھرتی کا برابر کا وارث ہے اور کسی کو بھی تقسیم کی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے اتوار کو شاہ فیصل ٹاؤن میں جلسہ عام کے ذریعے آئین میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے واضح آئینی طریقہ کار شامل کرنے کی تحریک کا باضابطہ آغاز کیا۔ وفاقی وزیر اور پارٹی رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت کی جدوجہد مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق ہے اور اس کا مقصد اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام سندھ یا پاکستان کی تقسیم نہیں بلکہ وفاق کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جبکہ اختیارات صرف چند افراد تک محدود ہیں۔

انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو وفاق سے کھربوں روپے موصول ہوئے، لیکن اس کے باوجود کراچی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کو مناسب انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں تو یہ شہر قومی معیشت میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

جلسے سے ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماؤں، جن میں انیس قائم خانی، فرغان اطیب اور رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق شامل تھے، نے بھی خطاب کیا اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور انتظامی اصلاحات پر زور دیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کی مخالفت جاری رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں