کراچی پانی کا المیہ 2

تحر یر:۔ عقیل اختر

کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ ملک کی معاشی شہ رگ بھی ہے۔ یہی شہر قومی خزانے کا بڑا حصہ بھرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج یہی شہر پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہا ہے۔ صبح سویرے گلیوں میں پانی کے ٹینکروں کا انتظار، گھروں میں خالی ٹینک، نلکوں سے نہ آنے والا پانی اور مہنگے داموں پانی خریدنے کی مجبوری کراچی کے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی بن چکی ہے۔ایک کراچی والے کی حیثیت سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ بحران ختم کیوں نہیں ہوتا؟ کیا سندھ میں پانی ختم ہو گیا ہے یا پھر مسئلہ کہیں اور ہے حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں پانی کی کمی صرف قدرتی مسئلہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی ناقص منصوبہ بندی، سیاسی عدم توجہی، بدانتظامی اور آبادی میں بے ہنگم اضافے کا نتیجہ ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی کو آج تقریباً 1100 سے 1200 ملین گیلن یومیہ (MGD) پانی درکار ہے، جبکہ شہر کو اوسطاً صرف 650 سے 665 ملین گیلن یومیہ پانی ملتا ہے۔ یعنی ہر روز تقریباً 450 سے 550 ملین گیلن پانی کی کمی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے لاکھوں شہری پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں یہ کمی ہر سال بڑھ رہی ہے۔ نئی آبادیاں بنتی جا رہی ہیں لیکن پانی کی فراہمی کا نظام تقریباً وہی ہے جو کئی سال پہلے تھا۔پانی کی کمی کی دوسری بڑی وجہ بوسیدہ پائپ لائنیں ہیں۔ کئی دہائیوں پرانا نظام جگہ جگہ ٹوٹا ہوا ہے۔ ہزاروں گیلن پانی شہریوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی لائنیں سیوریج لائنوں سے مل جاتی ہیں جس سے پانی آلودہ ہو جاتا ہے اور بیماریاں پھیلتی ہیں۔اس کے بعد پانی چوری کا مسئلہ آتا ہے۔ کراچی میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور واٹر مافیا برسوں سے سرگرم ہیں۔ سرکاری پانی غیر قانونی طریقوں سے نکال کر ٹینکروں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن علاقوں تک پانی پہنچنا چاہیے وہاں نل خشک رہتے ہیں جبکہ چند لوگ اسی پانی سے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔حکومتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے، مگر زیادہ تر منصوبے تاخیر کا شکار رہے۔سب سے اہم منصوبہ K-4 ہے۔ اس منصوبے کا تصور تقریباً دو دہائیاں پہلے پیش کیا گیا۔ 2014 میں اسے عملی شکل دی گئی۔ منصوبے کا مقصد کینجھر جھیل سے کراچی کو اضافی پانی فراہم کرنا تھا۔ پہلے مرحلے میں 260 ملین گیلن یومیہ پانی کراچی پہنچانا تھا جبکہ مستقبل میں مجموعی صلاحیت 650 MGD تک بڑھائی جانی تھی۔ لیکن یہ منصوبہ بار بار تکنیکی مسائل، انتظامی تبدیلیوں، فنڈز کی کمی اور تاخیر کا شکار رہا۔حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو بتایا گیا کہ منصوبے پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی اعتراف کیا گیا کہ تاخیر، لاگت میں اضافے اور شفافیت کے مسائل نے منصوبے کو متاثرکیا۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو شاید آج کراچی کے لاکھوں شہری پانی کے لیے پریشان نہ ہوتے۔حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف نئے منصوبے بنا دینا کافی نہیں۔ اگر پانی کی تقسیم کا موجودہ نظام درست نہ کیا گیا تو اضافی پانی بھی ضائع ہو سکتا ہے۔کراچی کے شہری یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت کا سب سے بڑا بوجھ اٹھانے والے شہر کو بنیادی سہولیات میں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ آبادی بڑھتی رہی، نئی رہائشی اسکیمیں بنتی رہیں، صنعتیں پھیلتی رہیں لیکن پانی کے ذخائر، پائپ لائنیں، فلٹریشن پلانٹس اور تقسیم کا نظام اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے سب سے پہلےK-4 منصوبے کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جائے اور اس کے اگلے مراحل پر بھی فوری کام شروع کیا جائے۔پانی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور واٹر مافیا کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔شہر کی پرانی پائپ لائنیں مرحلہ وار تبدیل کی جائیں تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔نئے ڈیم، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے اور سمندری پانی کو صاف کر کے قابل استعمال بنانے جیسے جدید منصوبوں پر بھی سرمایہ کاری کی جائے۔ہر نئی ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری اس وقت تک نہ دی جائے جب تک وہاں پانی کی فراہمی کا مکمل نظام موجود نہ ہو۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو جدید ٹیکنالوجی، خودکار نگرانی اور شفاف نظام سے مضبوط بنایا جائے تاکہ پانی کی تقسیم منصفانہ ہو۔کراچی کے عوام کو بھی پانی کے محتاط استعمال کی عادت اپنانا ہوگی کیونکہ پانی ایک محدود قدرتی نعمت ہے کراچی کے شہری کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنا حق مانگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس شہر کی معیشت پورے پاکستان کو سہارا دیتی ہے، اسے پینے کا صاف پانی تو میسر ہو۔ اگر آج بھی اس بحران کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت کراچی کا سب سے بڑا انسانی اور معاشی بحران بن سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ پیاسے شہر کو تقریروں سے نہیں بلکہ پانی سے زندگی ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں