پنجاب میں وائلڈ لائف کے تحفظ کے لئے اقدامات

تحریر ۔۔۔ محمد یسین ظفر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب وائلڈ لائف کے تحفظ اور فروغ کیلئے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مثال بن رہا ہے۔وائلڈ لائف ڈے کے حوالے سے پیغام میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کو 50 ہزار پرندے، 1020 جنگلی جانور، 30 ریچھ ریسکیو کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وائلڈ لائف کے تحفظ کیلئے پنجاب میں 14700 چالان، 1050 ایف آئی آر رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 104 ایریاز وائلڈ لائف پروٹیکٹڈ قرار اور 3 وائلڈ لائف ری ہبلیٹیشن سنٹر قائم کر دیئے گئے ہیں۔ پنجند ڈولفن کی محفوظ پناہ گاہ کی نشاندہی کیلئے پہلی مرتبہ تھرمل ڈرونز کے ذریعے اے آئی بیسڈ سروے کا آغاز کیا گیا ہے۔ جام پور، بیٹ لنڈی پتافی تا گدو بیراج، پنجند انڈس ڈولفن کی محفوظ پناہ گاہ قرار، نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ باقاعدہ وائلڈ لائف رینجرز قائم کی گئیں اور 544 کی ٹریننگ مکمل کی جاچکی ہے۔ پٹرولنگ اور وائلڈ لائف کرائم آپریشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبہ بھر میں وائلڈ لائف قوانین کا سختی سے نفاذ کرکے 14700 چالان، 1050ایف آئی آر درج، 205 ملین روپے جرمانہ وصول کیے گئے۔ وائلڈ لائف کورس کیلئے بہترین گاڑیاں، کمیونیکیشن اور ریسکیو آلات، پروٹیکشین گیئر اور دیگر آپریشنل سپورٹ کی فراہمی کی گئی ہے۔ وائلڈ لائف ہیلپ لائن 1107 پر موصول ہونے والی 950 شکایات / کیسز کا ازالہ کیا گیا۔ وائلڈ لائف تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے 13 جدید ترین ریسکیو وہیکلز فیلڈ فارمیشن میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلی جانوروں کے علاج کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ وٹرنری ہسپتال کمپلیکس کا قیام کیا گیا ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وائلڈ لائف ہاسپٹل آن ویلز، موبائل وٹرنری کلینک پراجیکٹ شروع کیے ہیں۔ پنجاب بھر میں جنگلی حیات کے فروغ کیلئے 920 جی آئی ایس میپ تیار، 108 وائلڈ لائف پروٹیکٹڈ ایریاز کی ڈیجیٹلائزیشن کی گئی ہے۔ کلرکہار، ملتان، ساہیوال، راولپنڈی، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور فیصل آبادکے علاقائی سنٹرزکوجی آئی ایس میپ سے منسلک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی جانوروں کی حفاظت اور نقل و حرکت کو نوٹ کرنے کیلئے جی پی ایس کالر ٹریکر متعارف کرایا گیا ہے۔ لاہور سفاری زو میں ریسکیو کیے جانے والے جنگلی جانوروں کے لئے ایمرجنسی وٹرنری کیئر سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی وٹرنری کیئر سنٹرز میں کرنتینا،بحالی اور ریسکیو ریکوری سپورٹ سنٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات کے تحفظ اور فروغ کیلئے موثر آگاہی مہم، سات مقامات پر کمیونٹی بیسڈ پناہ گاہیں اور سات پرائیویٹ وائلڈ لائف ریزر وائر ہیں۔ پنجاب کے پہلے وائلڈ لائف سٹوڈنٹس انٹر ن شپ پروگرام کا آغاز، ماہانہ 60 ہزار روپے سکالر شپ مقرر کیے گئے ہیں۔ لاہور سفاری زو میں ساون ڈی سینما، زرافہ سفاری کیفے، اور سفاری ٹری کیفے اورنایاب سہولتیں موجود ہیں۔ معلومات، آگاہی اورنیچر ایجوکیشن کیلئے لاہور سفاری زو میں پہلے مرتبہ وائلڈ لائف کمیونیکیشن ہب قائم کیا گیا ہے۔ لاہور سفاری زو میں نایاب افریقی ہرن، زرافے، جنگلی بھینسیں، نائلا اوربکس جیسے نایاب جنگلی جانوروں کا اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں دلدلی علاقوں اور آبی زمینوں کی نشاندہی کیلئے مانٹیرنگ ایکوسسٹم، جی او سپیشل انٹیلی جنس قائم کیا گیا ہے۔ 9 نایاب جنگلی جانوروں کے تحفظ کیلئے اے آئی ان ٹگریٹڈ تھرمل ڈرون کے ذریعے وائلڈ لائف ڈیڈکشن سسٹم قائم کر دیا گیا۔ اے آئی اور مشین لرننگ تھرمل سروے کے ذریعے اڈیال، نیل گائے،ہرن، ریچھ، کلور اور دیگر جانوروں کے تحفظ اور فروغ کیلئے موثر اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔ کلرکہار، نیلا وہان، سنبلی اور کنڈوا جھیل کے فضائی سروے مکمل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں پہلا ٹیکنالوجی این ایبل وائلڈ لائف جانور شماری کا عمل مکمل کرلیاگیا ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ اور فروغ کو یقینی بنانے کیلئے برسوں پرانے فرسودہ قوانین میں موثر ترامیم کی گئی ہیں۔ بانسرا گلی، مری بائیو ڈائی ورسٹی پارک اورچھانگا مانگا میں ایکو ڈویلپمنٹ کا آغاز کیا گیاہے۔

متعلقہ خبریں