کے ایم سی کے اہم ترقیاتی، اراضی اور مالیاتی ریکارڈ آن لائن کرنے کا اعلان

کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ترقیاتی منصوبوں، اراضی، اثاثوں اور مالیاتی ریکارڈ کو آن لائن دستیاب کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا اور شہریوں کو معلومات تک براہِ راست رسائی فراہم کی جا سکے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ شہریوں کو شہر میں ہونے والے کاموں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی سرکاری افسر سے رجوع کرنے یا فائلیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تمام معلومات آن لائن دستیاب ہونی چاہئیں۔

انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی کی ویب سائٹ پر نئے سیکشنز شامل کیے گئے ہیں جہاں شہری کے ایم سی کی املاک و اثاثوں، ترقیاتی منصوبوں، کراچی ڈویلپمنٹ میپ (KDM) اور لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

میئر کے مطابق 733 ترقیاتی منصوبوں، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریباً 59 ارب روپے ہے، کی تفصیلات آن لائن دستیاب کر دی گئی ہیں۔ ان میں ہر منصوبے کی لاگت، مختص بجٹ، اخراجات، ٹھیکیدار اور فنڈز کے ذرائع سمیت دیگر معلومات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ڈویلپمنٹ میپ کے ذریعے شہری مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعمیر ہونے والی سڑکوں کے مقامات دیکھ سکیں گے۔ کسی منصوبے پر کلک کرنے سے اس کی لاگت، منظور شدہ رقم، اخراجات، موجودہ صورتحال اور متوقع تکمیل کی مدت بھی معلوم کی جا سکے گی۔

ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کی تصاویر اور ویڈیوز بھی آن لائن اپ لوڈ کی جائیں گی تاکہ شہری منصوبوں کی نگرانی کے لیے موقع پر جانے کے بجائے گھر بیٹھے ان کی پیش رفت دیکھ سکیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے ایم سی اپنے پرانے لینڈ ریکارڈ کو بھی ڈیجیٹلائز کر رہی ہے، جن میں بعض ریکارڈ کئی دہائیوں بلکہ صدیوں پرانے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور اس کے ضائع یا تبدیل ہونے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جائیداد کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا، جس سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور فائلوں کی نقل و حرکت کے باعث ہونے والی تاخیر کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

میئر نے بتایا کہ کے ایم سی کے ملازمین کا ریکارڈ بھی SAP نظام میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت بہتر ہو اور جعلی یا دوہری ادائیگیوں کی روک تھام کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے اکاؤنٹ سے ہونے والی ہر ادائیگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے لیے الیکٹرانک اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ادائیگی کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق آئندہ چند ماہ میں کے ایم سی کی آمدنی اور واجبات کو بھی ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا، جس سے کارپوریشن کو موصول ہونے والی رقم کا درست ریکارڈ دستیاب ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث بعض محکموں میں آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایک محکمے کی ماہانہ وصولیاں پہلے تقریباً 17 سے 18 کروڑ روپے رہتی تھیں، جو گزشتہ ماہ بڑھ کر تقریباً 30 کروڑ روپے ہو گئیں۔

میئر نے بتایا کہ کے ایم سی کی زمینوں، دکانوں، بس ٹرمینلز اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات بھی عوام کے لیے آن لائن دستیاب کی جا رہی ہیں، جبکہ مزید معلومات، جن میں الاٹمنٹ ریکارڈ بھی شامل ہیں، مرحلہ وار شامل کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کے لیے ہے جس کے ذریعے شہری براہِ راست دیکھ سکیں کہ سرکاری اثاثوں اور عوامی وسائل کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے محض دعووں کے بجائے حقائق عوام کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں، جبکہ شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن سے مقامی حکومت پر شہریوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

متعلقہ خبریں