کراچی: گلشن اقبال ٹاؤن کی ایک ہزار سے زائد سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام شروع

کراچی: گلشن اقبال ٹاؤن میں ایک ہزار پانچ سے زائد گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے، جس کے تحت 10.3 ملین مربع فٹ سڑکوں پر اسفالٹ اور پیور بلاکس لگائے جائیں گے۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور ٹاؤن چیئرمین نے کہا ہے کہ محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود علاقے میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، تاہم بلدیاتی اداروں کو بااختیار اور مالی طور پر مستحکم کیے بغیر شہریوں کے بنیادی مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

منگل کو ٹاؤن آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر نے، ضلع شرقی کے امیر نعیم اختر اور ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد کے ہمراہ، بتایا کہ گلشن اقبال ٹاؤن میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے علاوہ کھیلوں کی سہولتوں، یوتھ سینٹرز، ماڈل ڈسپنسریوں، پارکوں، ماڈل مارکیٹوں، اربن فاریسٹ اور نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدانوں کی تعمیر و بہتری پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے مارکیٹ کو ماڈل مارکیٹ بنانے اور دھوراجی مارکیٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، جبکہ گلشن اقبال ٹاؤن کو سرسبز بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

منعم ظفر کے مطابق جماعت اسلامی نے گزشتہ تین سال کے دوران محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود گلشن اقبال ٹاؤن میں 42 سڑکوں کی دوبارہ کارپیٹنگ اور تقریباً 10 لاکھ مربع فٹ سڑکوں پر کارپیٹنگ کا کام مکمل کیا۔ اس دوران دو یوتھ سینٹرز اور دو ماڈل محلے بھی قائم کیے گئے، جبکہ ہزاروں اسٹریٹ لائٹس نصب کرنے کے ساتھ پارکوں کی بحالی سمیت مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹاؤن کے ملازمین کی فلاح و بہبود پر 90 ملین روپے سے زائد خرچ کیے گئے، جن میں طبی سہولتوں، پنشن، بونس اور دیگر واجبات کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ٹاؤن کو فراہم کی گئی خراب گاڑیوں، اسنارکلز، ٹریکٹر ٹرالیوں اور دیگر مشینری کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ قابل استعمال بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 200 ملین روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ بھی مکمل کیا گیا۔

منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی کا واضح مؤقف ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات اور مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شہریوں کے مسائل حل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نعمت اللہ خان کے دورِ نظامت میں بھی علاقے میں نمایاں ترقیاتی کام کیے گئے، جن میں راشد منہاس روڈ اور دیگر سڑکوں کی تعمیر شامل تھی۔ ان کے بقول ان منصوبوں میں دستیاب وسائل کو امانت سمجھ کر عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں گلشن اقبال کے عوام نے جماعت اسلامی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، تاہم نتائج تبدیل کرکے ٹاؤن پر قبضہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود جماعت اسلامی نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

بلدیاتی وسائل کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلشن ٹاؤن 13 یونین کونسلوں پر مشتمل تھا، جبکہ اب اس میں صرف آٹھ یونین کمیٹیاں ہیں۔ بلدیاتی نظام کے قیام کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آکٹرائے ضلع ٹیکس (او زیڈ ٹی) کی مد میں ملنے والی رقم میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی دو برسوں کے دوران ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ٹاؤن کو اپنے وسائل سے تقریباً 70 ملین روپے خرچ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب مالی وسائل فراہم کیے بغیر بلدیاتی اداروں سے شہری مسائل کے حل کی توقع رکھنا درست نہیں۔

منعم ظفر نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع ہونے والا منصوبہ اکتوبر 2023 میں مکمل ہونا تھا، لیکن اب تک نامکمل ہے۔ صوبائی حکومت اور وزیرِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مختلف تاریخیں دی جاتی رہی ہیں، تاہم بظاہر آئندہ تین برسوں میں بھی اس کی تکمیل یقینی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پہلے ایک بہتر سڑک تھی، جسے منصوبے کے لیے کھودے جانے کے بعد شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق سڑک کی دوبارہ تعمیر کسی نئے منصوبے کی تکمیل نہیں بلکہ پہلے سے موجود بنیادی ڈھانچے کی بحالی ہوگی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 میں جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی، جس کے نتیجے میں تعمیراتی کام مکمل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایک بار پھر شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، ٹریفک جام اور آمدورفت کی مشکلات سے دوچار ہیں۔

متعلقہ خبریں