سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ چار سال سے قواعد اور ڈویژنل بورڈز کے بغیر کام کر رہا ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا انکشاف
کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ 2021 سے قانون کے تحت لازمی ڈویژنل بورڈز اور قواعد کے بغیر کام کر رہا ہے، جبکہ انتظامی اختیارات مینجنگ ڈائریکٹر کے پاس مرکوز ہیں۔
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ترمیمی قانون 2021 کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، شہید بینظیرآباد اور لاڑکانہ میں ڈویژنل سطح پر الگ الگ بورڈ قائم کیے جانے ہیں۔ ان بورڈز کے چیئرمین متعلقہ میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کے میئر جبکہ وائس چیئرمین ڈویژنل کمشنر ہوں گے۔ اس انتظام کا بنیادی مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور بلدیاتی اداروں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پی اے سی کے چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی زیر صدارت اجلاس میں سال 2023 اور 2024 کے دوران کراچی میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق تمام ڈویژنوں میں بورڈز قائم کیے جائیں اور ضروری قواعد مرتب کیے جائیں۔
نثار احمد کھوڑو نے سوال اٹھایا کہ 2021 میں میئرز کی سربراہی میں بورڈز قائم کرنے کے لیے ترمیمی قانون منظور کیا گیا تھا، لیکن چار سال گزرنے کے باوجود نہ بورڈز بنائے گئے اور نہ ہی قواعد مرتب ہوئے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ایسی صورت حال میں ایک مینجنگ ڈائریکٹر کس قانون کے تحت پورے ادارے کو چلا رہا ہے۔
کمیٹی کے رکن قاسم سومرو نے کہا کہ قانون میں ترمیم کا مقصد اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ڈویژنل بورڈز تشکیل نہ دینے کا مقصد اختیارات کی منتقلی کو روکنا ہے۔
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر فواد سومرو نے مؤقف اختیار کیا کہ 2014 کے اصل قانون کے تحت قائم بورڈ اب بھی کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی کابینہ اور اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے محکمہ بلدیات کو خطوط بھی لکھے گئے ہیں، جبکہ مینجنگ ڈائریکٹر انتظامی اور عملی اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔
تاہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور لاڑکانہ میں ڈویژنل بورڈز قائم کرنے اور متعلقہ قواعد مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں آڈٹ حکام نے اس امر پر بھی اعتراض اٹھایا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو کچرے کی ری سائیکلنگ کے ذریعے کوئی آمدن حاصل نہیں ہو رہی اور نہ ہی کچرے سے بجلی پیدا کرنے کا مؤثر انتظام کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس صورت حال کے باعث عوام کو کچرے سے بجلی پیدا کرکے کم لاگت توانائی فراہم کرنے کے ممکنہ فائدے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
پی اے سی چیئرمین کے استفسار پر مینجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ 28 ارب روپے ہے، جس میں سے 24 ارب روپے صرف کراچی سے کچرا اٹھانے اور اس کی منتقلی پر خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق شہر سے روزانہ 10 ہزار سے 12 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جاتا ہے۔
نثار احمد کھوڑو نے سوال کیا کہ جب کراچی سے روزانہ ہزاروں ٹن کچرا اٹھایا جا رہا ہے تو اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کچرا اٹھانے کے حوالے سے ضلع وار تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارہ کچرے سے بجلی پیدا کرنے کے قابل نہیں تو اس کی کارکردگی اور بنیادی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
فواد سومرو نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد میں کچرا جمع کرنے کے مقامات پر ری سائیکلنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے برطانیہ کی ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے ساتھ کچرے کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے بھی ایک انتظام کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق کراچی میں کچرا اٹھانے کے ٹھیکے تین چینی اور ایک ترک کمپنی کو دیے گئے ہیں۔
پی اے سی چیئرمین نے شہر کے مختلف علاقوں سے کچرا نہ اٹھائے جانے کی مسلسل شکایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان شکایات کے ازالے کا ذمہ دار کون ہے اور ٹھیکیداروں کی کارکردگی یقینی بنانے کے لیے کون جواب دہ ہوگا۔
کمیٹی نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سے ضلع وار کچرا جمع کرنے، اس پر ہونے والے اخراجات اور حاصل ہونے والی آمدن کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
کمیٹی کے رکن طحہٰ احمد نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن، نیو کراچی، ناظم آباد اور دیگر علاقوں کی متعدد سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر موجود ہیں، لیکن انہیں اٹھانے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نظر نہیں آتا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے متعدد ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔
اس موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم ہے، جو ادارے کی نگرانی کرتی ہے اور جسے بورڈ جواب دہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈویژنل بورڈز کے قیام سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کے لیے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور وزیر محنت پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے، مالی شفافیت اور عملی کارکردگی پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خصوصاً قانون کے تحت بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنے، کچرے کی ری سائیکلنگ سے آمدن حاصل کرنے اور شہریوں کو بہتر صفائی کی سہولتیں فراہم کرنے کے معاملات پر ادارے کی جواب دہی کا تقاضا مزید اہم ہوگیا ہے۔