کراچی: ماحولیاتی تحفظ کے کارکنوں اور کلفٹن کے رہائشیوں کے احتجاج کے بعد نہرِ خیام پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سٹی کونسل میں اپوزیشن نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) سے مبینہ تفریحی سہولتوں کی تعمیر، منصوبے کی قانونی حیثیت اور اس کے دائرہ کار سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد نے میونسپل کمشنر کے ایم سی کو خط ارسال کیا ہے، جس میں منصوبے کی سرکاری دستاویزات، تعمیراتی سرگرمیوں کی نوعیت اور متعلقہ اداروں کے اختیارات کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد یہ سوالات اہم ہوگئے ہیں کہ نہرِ خیام پر کیا تعمیر کیا جا رہا ہے، اس کی اجازت کس ادارے نے دی ہے اور ان تعمیرات سے کراچی کے نکاسی آب کے نظام پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ نہرِ خیام کے مقام پر تفریحی سہولتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں قدرتی برساتی نالے پر کنکریٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔
تیمور احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ نہرِ خیام ایک برساتی نالہ ہے جو کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور تاریخی طور پر موجود اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کے پیش نظر منصوبے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کی سرکاری تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ تعمیرات کی نوعیت اور قانونی و انتظامی دائرہ اختیار واضح ہوسکے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اور سٹی کونسل کے رکن سید نجمی عالم نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں نہرِ خیام پر کسی تجارتی عمارت کی تعمیر کی تردید کی ہے۔
نہرِ خیام کے مقام پر کھڑے ہوکر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکمے سے تمام تفصیلات حاصل کی ہیں اور یہاں دکانیں تعمیر کیے جانے سے متعلق اطلاعات درست نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی مسائل پر شہریوں اور علاقے کے رہائشیوں کی تشویش قابل فہم ہے، تاہم یہاں کوئی دکانیں تعمیر نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری یا تنظیم کو منصوبے پر اعتراض یا تحفظات ہیں تو وہ براہ راست ان سے رابطہ کرسکتے ہیں، جبکہ وہ اس معاملے پر مکمل بریفنگ کا بھی انتظام کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کو ماحولیاتی کارکنوں اور شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے نہرِ خیام پر مبینہ تجارتی پٹی کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ احتجاج میں کلفٹن بلاک 5 ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن، کلفٹن ڈیفنس کمیونٹی اور کراچی ریزیڈنٹس کمیونٹی، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ارکان سمیت دیگر شہریوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سپریم کورٹ کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی، نہرِ خیام پر فوڈ اسٹریٹ نہ بنانے، تعمیراتی منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے اور قدرتی آبی گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے کے مطالبات درج تھے۔ بعض پلے کارڈز پر خبردار کیا گیا کہ نالے کی چوڑائی کم ہونے سے شدید بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ ایک پلے کارڈ پر طنزیہ نعرہ ’’بوٹ بیسن سے گٹر بیسن‘‘ بھی درج تھا۔
کلفٹن اربن فاریسٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ماہر ماحولیات مسعود لوہار نے تعمیراتی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد خود کو ماہر تعمیرات، انجینئرز اور ٹاؤن پلانرز قرار دیتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ ایسے منصوبوں کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام اوبھایو لیگون اور گزری کریک کے درمیان ایک قدرتی رابطہ ہے اور اس کے آبی و سمندری ماحولیاتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق قدرتی آبی گزرگاہوں کو نقصان پہنچنے سے سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
احتجاج میں شریک اور کراچی ریزیڈنٹس کمیونٹی، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی رکن راشا طارق نے معروف کالم نگار اور سماجی کارکن مرحوم اردشیر کاؤسجی کے 10 ستمبر 2006 کو شائع ہونے والے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہرِ خیام کو کلفٹن کے علاقے کے اہم قدرتی پھیپھڑوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
ان کے مطابق نہرِ خیام کا بنیادی مقصد بارش یا سمندری مدوجزر کے پانی کو نکالنا تھا، نہ کہ گندے پانی کو کھلے سمندر میں لے جانا۔ انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام، بوٹ بیسن اور کراچی کے نکاسی آب کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ اس کی گزرگاہ، کھلے کنارے اور اردگرد کا قدرتی منظرنامہ شہریوں کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔
راشا طارق نے جاری تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نہرِ خیام کا تحفظ صرف کلفٹن کے رہائشیوں کا نہیں بلکہ پورے شہر کا معاملہ ہے۔
نہرِ خیام پر جاری تعمیرات کے حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے سرکاری دستاویزات طلب کیے جانے، ماحولیاتی کارکنوں کے اعتراضات اور حکومتی نمائندے کی جانب سے تجارتی تعمیرات کی تردید کے بعد اب منصوبے کی اصل نوعیت، منظوری، قانونی حیثیت اور نکاسی آب کے نظام پر ممکنہ اثرات کے بارے میں متعلقہ حکام کی وضاحت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔