چین کا جنوبی پنجاب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور

لاہور: لاہور میں تعینات چینی قونصل جنرل سن یان نے جنوبی پنجاب کے ساتھ زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے قدرتی وسائل اور وسیع مارکیٹ کی صلاحیت دوطرفہ تعاون کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔

سن یان نے یہ بات ملتان کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران کہی، جہاں انہوں نے جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری فواد ہاشم ربانی سے ملاقات کی اور زراعت، لائیو اسٹاک، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے بارے میں اعلیٰ حکام سے بریفنگ لی۔ انہوں نے زرعی اداروں کا دورہ بھی کیا اور جامعات کے حکام، اساتذہ اور طلبہ سے ملاقاتیں کیں۔

فواد ہاشم ربانی سے ملاقات کے دوران چینی قونصل جنرل نے کہا کہ چین جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے ساتھ روابط مزید مضبوط کرنے، دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ’2.0 اپ گریڈڈ ورژن‘ کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے پر زور دیا اور دونوں جانب سے مزید ”چھوٹے مگر خوبصورت“ عوامی فلاحی منصوبے شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دوطرفہ تعاون کے ثمرات براہ راست مقامی آبادی تک پہنچ سکیں۔

سن یان کے دورے کے دوران تعلیم خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ انہوں نے ملتان کے رومانزا پی سی ہوٹل میں جنوبی پنجاب کے مستحق بچوں میں اسکول کٹس تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام تعلیم کو دی جانے والی چین کی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کا یہ قول بھی نقل کیا کہ ”تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔“

چینی قونصل جنرل نے اسکول کٹس کی فراہمی کو دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اتفاق رائے پر عمل درآمد اور عوام پر مرکوز فلاحی منصوبوں کے فروغ کی عملی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکول کا سامان بچوں کو اعتماد کے ساتھ تعلیم جاری رکھنے اور اپنے خواب پورے کرنے میں مدد دے گا۔

سن یان نے کہا کہ یہ اقدام صدر شی جن پنگ کے عالمی اقدامات کے تحت عوام پر مرکوز حکمت عملی سے بھی ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے مئی میں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی صدر نے مشترکہ مستقبل کی حامل چین پاکستان کمیونٹی کے قیام کے لیے ایکشن پلان کو آگے بڑھانے، بڑے منصوبوں کو عوامی فلاحی اقدامات کے ساتھ مربوط کرنے اور انسانی وسائل کی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ دورہ چین اور پنجاب اور چین کے درمیان عوامی روابط مضبوط بنانے پر ان کی توجہ کا بھی حوالہ دیا۔

سن یان نے پنجاب میں صحت کے مراکز کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، فنی تربیت اور زبان کی لیبارٹریوں کو ایسے تعاون کی مثالیں قرار دیا جن کا مقصد عوام کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں سے تعاون کے فوائد کم ترقی یافتہ دیہات اور قصبوں تک پہنچانے سے صوبے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان ترقی کے فرق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں سن یان نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی اور سی پیک کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ زرعی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ زراعت میں اپنی مہارت کو مزید بہتر بنائیں اور چینی ثقافت کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان چین دوستی کے وارث اور سی پیک کے مستقبل کے معمار بن سکتے ہیں۔

سن یان نے محکمہ زراعت جنوبی پنجاب، مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ماڈل ایگریکلچر مال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے زرعی حکام اور ماہرین سے تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقاتوں میں جنوبی پنجاب کی زرعی صلاحیت اور پاکستانی و چینی اداروں، محققین اور ماہرین کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں چینی قونصل جنرل نے چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد اور فیکلٹی ارکان سے ملاقات کی اور اعلیٰ تعلیم اور ادارہ جاتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

ان ملاقاتوں میں سرکاری حکام، زرعی ماہرین، محققین اور ماہرین تعلیم نے زراعت، لائیو اسٹاک، صحت، تعلیم، فنی تربیت اور سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

سن یان نے اپنے دورہ ملتان کو پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ سے جوڑتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو ”آہنی اور ہر موسم میں قائم رہنے والی دوستی“ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ زرعی تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت بڑھ گئی ہے، تاہم اسٹریٹجک تعاون کے ساتھ ایسے منصوبوں کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے جو براہ راست عوام کی زندگیوں میں بہتری لائیں۔

چینی قونصل جنرل نے اسکول کٹس کی تقسیم کے اقدام کو صدر شی جن پنگ کے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کے وژن اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو سے بھی جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر مرکوز عملی منصوبے ان وسیع تر اصولوں کو حقیقی معنوں میں عملی شکل دے سکتے ہیں۔

سن یان نے کہا، ”آج یہاں ہمارا ہر چھوٹا اقدام چین پاکستان دوستی کی عظیم داستان میں ایک روشن مثال ہے۔“

انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ تعلیم، صحت اور فنی تربیت کے فوائد مزید خاندانوں تک پہنچانے کے لیے تعاون جاری رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ دوطرفہ تعاون کے ثمرات بڑے شہری مراکز سے باہر موجود آبادیوں تک بھی پہنچیں۔

سن یان کا دورہ ملتان زراعت، تعلیم، انسانی وسائل کی ترقی اور نچلی سطح کے عوامی فلاحی منصوبوں کو جنوبی پنجاب اور چین کے درمیان تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں