حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے اسپتال ڈائریکٹر معطل، قانونی تنازع کے دوران ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریض متاثر

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ آف گورنرز نے اسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر گلزار احمد خان کی معطلی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ انہیں معطلی یا برطرفی کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناع حاصل ہے۔ اس انتظامی تنازع کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کی ہڑتال نے بھی اسپتال کے معمولات کو متاثر کیا۔

بورڈ آف گورنرز کے 55ویں اجلاس کے بعد جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ قانونی رائے کی روشنی میں ڈاکٹر گلزار احمد خان کی معطلی اور قائم مقام اسپتال ڈائریکٹر کی تقرری سے متعلق جاری نوٹیفکیشن فی الحال برقرار رہیں گے۔

یاد رہے کہ بورڈ نے 21 جولائی کو شوکاز نوٹس کے بعد مبینہ بدانتظامی اور حقائق چھپانے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کے لیے اسپتال ڈائریکٹر کو معطل کیا تھا۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے حکام کا کہنا ہے کہ بورڈ کے تمام فیصلے قانون کے مطابق کیے گئے ہیں اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب ڈاکٹر گلزار احمد خان نے پہلے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے ڈاکٹر نعیف اللہ کو حادثات و ایمرجنسی منصوبے اور صحت سہولت پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ پروفیسر محمد شاہ، چیئرمین شعبہ سرجری، اور ڈاکٹر عظمت علی کو ذمہ داریاں سونپ دیں۔

نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو حادثات و ایمرجنسی منصوبے کی نگرانی، منصوبہ بندی، رابطہ کاری، مانیٹرنگ اور عمل درآمد کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں، جبکہ وہ متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ رابطہ بھی رکھیں گے۔

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال، او پی ڈیز بند، مریض مشکلات کا شکار

انتظامی تنازع کے ساتھ ہی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے خلاف ہڑتال کی، جس کے باعث ایمرجنسی سروسز کے علاوہ بیشتر طبی سہولیات معطل رہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار بھٹانی نے دعویٰ کیا کہ اسپتال میں بدعنوانی کے شواہد موجود ہیں، جو متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم مبینہ ذمہ داران کو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف کارروائی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ہڑتال کے باعث او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز، تشخیصی مراکز اور دیگر غیر ہنگامی خدمات بند رہیں، جس سے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد افراد کو نجی اسپتالوں یا انسٹی ٹیوشنل بیسڈ پریکٹس (IBP) سہولت سے رجوع کرنا پڑا۔

ڈاکٹروں کی تنظیموں کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا ہے کہ سرکاری او پی ڈیز بند ہونے کے باوجود آئی بی پی کلینکس جاری رہے، جہاں مریضوں کو نسبتاً زیادہ فیس ادا کرنا پڑی۔

ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ حکومت تک اپنے جائز مطالبات پہنچانے کے لیے ان کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی مؤثر راستہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال میں مبینہ بدعنوانی کے شواہد پہلے ہی حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں اور وہ وزیراعلیٰ کی جانب سے کارروائی کے منتظر ہیں۔

تاہم حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے ہڑتال کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کو معمول کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور کسی بھی قسم کی سروس معطل نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں