پی ایم ڈی سی کا ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس کی مسلسل طبی تعلیم (CME) اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (CPD) کے نظام کو مزید مؤثر، معیاری اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

اس اقدام کا اعلان اسلام آباد میں تین روزہ قومی CME/CPD استعدادِ کار ورکشاپ کے اختتام پر کیا گیا۔ ’’ہائی امپیکٹ CME/CPD کی تیاری: تصور سے تکمیل تک‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں ملک بھر کے طبی و دندان سازی کے اداروں کے سربراہان، طبی تعلیم کے ماہرین، فیکلٹی ارکان اور نمائندگان نے شرکت کی۔

اختتامی تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح ناز اکبر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج، رجسٹرار ریٹائرڈ بریگیڈیئر ڈاکٹر ریحان نقوی، فیکلٹی ارکان اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ طبی شعبے میں تیز رفتار ترقی کے پیش نظر مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین جدید طبی علوم اور کلینیکل پریکٹس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کی بنیاد پر CME/CPD نظام تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس علم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حوالے سے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں۔

ڈاکٹر رضوان تاج نے آغا خان یونیورسٹی کی ڈاکٹر نتاشا کا ورکشاپ میں تعاون اور شرکاء کی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے CME/CPD پروگرامز کی تیاری، نفاذ اور جائزے کے حوالے سے ان کی مہارت کو سراہا۔

فرح ناز اکبر نے پی ایم ڈی سی کے اقدام کو سراہتے ہوئے طبی و دندان سازی کی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر رضوان تاج کی قیادت کی تعریف کی۔

ڈاکٹر ریحان نقوی نے کونسل کی جانب سے حاصل کیے گئے اہم سنگِ میل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ CME/CPD اقدام رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس کے پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے اور زندگی بھر سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ورکشاپ میں CME/CPD کے مکمل طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا، جس میں پیشہ ورانہ کارکردگی اور تعلیمی ضروریات کی نشاندہی، قابلِ پیمائش تعلیمی اہداف کا تعین، تعلیمی پروگراموں کی تیاری، شفافیت و آزادی، نتائج کا جائزہ، انتظامی امور، دستاویزات، نگرانی اور معیار کی یقین دہانی جیسے موضوعات شامل تھے۔

متعلقہ خبریں