کراچی: عباسی شہید اسپتال میں قائدِ عوام او پی ڈی بلاک کا افتتاح، مریضوں کے لیے نئی سہولیات فعال

کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جمعہ کے روز عباسی شہید اسپتال میں نو تعمیر شدہ قائدِ عوام او پی ڈی بلاک کا افتتاح کر دیا، جس کے بعد نئے بلاک میں مریضوں کے لیے بیرونی مریضوں کی طبی خدمات شروع کر دی گئیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ نئے او پی ڈی بلاک کے فعال ہونے سے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی اور عباسی شہید اسپتال کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال پہنچنے پر انتظامیہ سے ان کا پہلا سوال عمارت کی صفائی اور دیکھ بھال کے حوالے سے تھا۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے ساتھ صفائی اور عمارت کی مناسب دیکھ بھال کا نظام بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔

شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے کام آئندہ تین سے چار ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ذمہ داریاں حکومت کو براہ راست ادا کرنی چاہئیں، جبکہ دیگر منصوبوں کی تکمیل کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

میئر نے کہا کہ مقصد عوام کو عارضی ریلیف دینے کے بجائے ان کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ نئی تعمیر ہونے والی سڑکوں کی حفاظت شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے اور انہیں بلاوجہ کھدائی یا نقصان سے بچانا چاہیے۔

انہوں نے عباسی شہید اسپتال کے امور کی نگرانی اور بہتری کے لیے ’’فرینڈز آف کراچی‘‘ کے نام سے ایک بورڈ قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا، جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈ اسپتال کے انتظامی امور اور دیگر شہری معاملات کی نگرانی کرتے ہوئے بہتری کے لیے کام کرے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کوشش ہے کہ ایسا مؤثر اور پائیدار نظام قائم کیا جائے جو کسی ایک فرد کے بجائے ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کرے۔ پہلے مرحلے میں اسپتال کی طبی خدمات کو فعال اور بہتر بنایا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مجموعی انتظامی نظام، بشمول ادویات کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کی خریداری اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک ان کی مریضوں تک شفاف اور مؤثر ترسیل کا نظام قائم نہیں ہو جاتا۔ اسپتال انتظامیہ خریداری اور مریضوں کو ادویات کی فراہمی کے درمیان موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے قابلِ عمل نظام وضع کرے گی۔

متعلقہ خبریں