کراچی کے مستقبل پر قومی مکالمہ، شہری اختیارات، بلدیاتی خودمختاری اور نئی مردم شماری پر زور

کراچی (خصوصی رپورٹ): کراچی کے مستقبل، شہری حقوق، اختیارات کی تقسیم اور سندھ کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق ایک اہم قومی مکالمہ "کراچی؛ حقائق اور حل” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا اہتمام سینیئر سیاستدان اور چیئرمین MIT ڈاکٹر سلیم حیدر کی دعوت پر کیا گیا۔ نشست میں سیاسی، سماجی، ادبی، ثقافتی، کاروباری اور صحافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور شہر کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

تقریب میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے سربراہ محمود مولوی، سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، CPLC کے بانی صدر ناظم ایف حاجی، رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت، سابق بیوروکریٹ مظفر عالم صدیقی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات شریک ہوئیں۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے، جو قومی محصولات میں تقریباً 60 سے 70 فیصد، وفاقی ٹیکس وصولیوں میں 80 فیصد سے زائد اور ملکی برآمدات میں تقریباً 55 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ یہ ملک کا اہم مالیاتی اور بینکاری مرکز بھی ہے۔ اس کے باوجود شہر پانی کی قلت، ٹوٹی سڑکوں، ناقص سیوریج، کچرے، ٹرانسپورٹ بحران، تجاوزات، بے روزگاری اور امن و امان کے مسائل سے دوچار ہے۔

اجلاس کے دوران مختلف آراء سامنے آئیں۔ متعدد مقررین نے کہا کہ کراچی کے مسائل کا دیرپا حل مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تمام شہری برادریوں کی مؤثر سیاسی نمائندگی میں مضمر ہے۔

بعض شرکاء نے یہ رائے بھی دی کہ شہری آبادی، بالخصوص مہاجر برادری، کو شراکتِ اقتدار میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے اور زمین، ترقیاتی منصوبوں اور شہری انتظام سے متعلق پالیسی سازی میں ان کی آواز کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہ آراء اجلاس میں شریک بعض مقررین کی ذاتی رائے کے طور پر پیش کی گئیں۔

اجلاس میں کراچی کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن میں نئی مردم شماری، مالی اور انتظامی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام، کراچی کے آئینی و انتظامی اختیارات میں اضافہ، این ایف سی اور پی ایف سی ایوارڈ میں آبادی اور ریونیو کی بنیاد پر منصفانہ حصہ، پانی، ٹرانسپورٹ، سیوریج اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے ہنگامی منصوبہ، پولیس اور شہری اداروں میں میرٹ پر بھرتیاں، صنعتوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی روزگار و سرمایہ کاری پیکیجز، اور زمینوں کے ریکارڈ میں شفافیت اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات شامل تھیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کے مسائل پر مکالمے کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ قابلِ عمل سفارشات مرتب کرکے متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں