خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کی ترقیاتی کونسلزمیں شمولیت کے حوالے سےکئی مقامی سیاسی و قبائلی راہنماؤں میں اختلافات
باجوڑ، خیبر، بنوں: خیبر پختونخوا کے ان 12 اضلاع کے لیے مجوزہ 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے قیام پر اختلافات سامنے آگئے ہیں جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے سینئر نائب صدر شہاب الدین خان نے کونسل کا حصہ بننے سے انکار کردیا، جبکہ باجوڑ اور خیبر کے متعدد قبائلی رہنماؤں نے بھی کونسل کی تشکیل اور ارکان کے انتخاب کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
شہاب الدین خان نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر کونسل کے 48 ارکان کی فہرست سامنے آنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی نے قبائلی کونسل کے لیے ان کا نام تجویز کیا ہے تو وہ اس کے شکر گزار ہیں، تاہم وہ مجوزہ کونسل کا رکن نہیں بننا چاہتے۔ باجوڑ سے منتخب کیے گئے چار ارکان میں ان کا نام بھی شامل تھا۔ وہ ماضی میں دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں، تاہم انہوں نے کونسل میں شمولیت سے انکار کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی۔
مجوزہ کونسل کی سربراہی خیبر پختونخوا کے سابق گورنر انجینئر شوکت اللہ خان کو سونپی گئی ہے، جن کا تعلق بھی ضلع باجوڑ سے ہے۔
دوسری جانب باجوڑ کے قبائلی عمائدین کے اتحاد اتحادِ ملکاناں باجوڑ نے اتوار کو کونسل مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی تشکیل کے معاملے پر اتحاد سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اتحاد کے ترجمان ملک شاہین خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کونسل میں حقیقی قبائلی عمائدین کے بجائے سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
ادھر قبیلہ اتمان خیل کے عمائدین کی تنظیم قومی ترون کے سرپرستِ اعلیٰ محمدی شاہ نے بھی دعویٰ کیا کہ باجوڑ سے کونسل میں اتمان خیل قبیلے کو نمائندگی نہیں دی گئی۔
ضلع خیبر میں بھی کونسل کے ارکان کے اختیارات، ذمہ داریوں اور انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ ضلع خیبر سے نامزد پانچ ارکان نے بھی کہا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں اور انتخاب کے معیار کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی گئیں۔ بعض مقامی عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے باوجود کونسل میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔
قبائلی رہنما ملک زر احمد شاہ، جنہوں نے کونسل کی رکنیت قبول نہیں کی، نے بتایا کہ وہ محض نمائشی رکن بننے کے خواہش مند نہیں، کیونکہ حکام نے ان افراد کو کونسل کے اختیارات اور فرائض کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کیں جن سے شمولیت کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں کونسلوں کی تشکیل اور ان کے ارکان کی سیاسی و قبائلی وابستگیوں کو دیکھتے ہوئے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض ارکان ماضی میں سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے مخالف رہے ہیں، لیکن اب وہ اسی نظام کا حصہ بن رہے ہیں جس کی وہ 2018 سے مخالفت کرتے آئے ہیں۔
جمرود میں کوکی خیل جرگے نے بھی کونسل کے ارکان کے انتخاب پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نامزد کیے گئے بعض عمائدین ضم شدہ اضلاع کے عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔
پشاور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ضلع خیبر کے طلبہ کی تنظیم خیبر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی کونسل کی تشکیل پر تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ نوجوان قیادت کو نمائندگی سے کیوں محروم رکھا گیا ہے۔
جمرود اور لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے کونسل کے کم از کم دو ارکان نے بتایا کہ انہیں تاحال اپنی ذمہ داریوں اور کردار کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔
تاہم قبائلی رہنما ملک عبدالرازق آفریدی نے بتایا کہ چند روز قبل پشاور کور کمانڈر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان کونسلوں کی تشکیل کا معاملہ زیرِ بحث آیا تھا۔ ان کے مطابق اعلیٰ فوجی افسر نے قبائلی عمائدین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں جلد اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
ملک عبدالرازق آفریدی نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں کونسل کے ارکان ضلعی انتظامیہ کو نئی ترقیاتی اسکیمیں تجویز کریں گے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
ادھر باڑہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کونسل کے نامزد رکن شیرین آفریدی پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے دباؤ ہے کہ وہ کونسل سے علیحدگی اختیار کریں، بصورتِ دیگر انہیں شوکاز نوٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سابق سینیٹر اور اے این پی کے رہنما حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے بھی اے آر ڈی سی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کرنے کی تردید کی ہے۔ بنوں سے ہفتے کے روز جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا، لیکن وہ اس کی رکنیت سے انکار کرچکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بار بار انکار اور پارٹی کی واضح پالیسی کے باوجود ان کا نام کونسل میں کیوں شامل کیا گیا۔
کونسل کے اختیارات، ارکان کی ذمہ داریوں اور نمائندگی کے طریقہ کار پر سامنے آنے والے ان اعتراضات کے بعد اس کے عملی کردار اور مقامی آبادی کی نمائندگی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔