اسلام آباد میں پانی اور سیوریج کے نرخ بڑھانے کی تجویز، پانی کی قلت کے باعث سی ڈی اے کا نیا منصوبہ
اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بڑھتی ہوئی پانی کی قلت اور اخراجات میں اضافے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں پانی اور سیوریج کے نرخوں میں اضافے کی تجویز تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے 2018 کے بعد پہلی مرتبہ واٹر اور سیوریج چارجز پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اصولی منظوری اور عوامی سماعت کے بعد اب اس تجویز کو وفاقی حکومت کی منظوری کے لیے بھیجے جانے کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اس وقت پانی کی فراہمی پر تقریباً 80 فیصد سبسڈی دے رہا ہے اور صارفین سے صرف 20 فیصد لاگت وصول ہو رہی ہے، جبکہ ملک کے دیگر واٹر اینڈ سینیٹیشن ادارے اپنی خدمات کی لاگت کا بڑا حصہ صارفین سے وصول کرتے ہیں۔ موجودہ نرخوں کے مطابق ایک ہزار گیلن پانی کے لیے صرف 16 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری اور نجی رہائشی مکانات کے ماہانہ چارجز بھی انتہائی کم ہیں، اسی لیے پانی کے نئے کنکشن فیس سمیت تمام نرخوں میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسلام آباد گزشتہ تین دہائیوں سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے، کیونکہ اس دوران شہر کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا مگر کوئی نیا آبی ذریعہ شامل نہیں کیا جا سکا۔
اس وقت شہر کو روزانہ 220 ملین گیلن سے زائد پانی درکار ہے، جبکہ سی ڈی اے صرف 70 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کر رہا ہے۔ دیہی علاقوں اور کئی رہائشی بستیوں کے مکین زیر زمین پانی یا نجی واٹر ٹینکرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔ سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے دو نئے ڈیموں کی تعمیر اور غازی بروتھا منصوبے سے پانی کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے، تاہم ان منصوبوں پر ابھی تک عملی پیش رفت محدود رہی ہے۔