پاکستان میں گندے پانی کی نگرانی کا قومی نظام متعارف، وباؤں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی
اسلام آباد: پاکستان میں متعدی بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور وباؤں کی روک تھام کے لیے گندے پانی (ویسٹ واٹر) کی نگرانی کا پہلا قومی نظام، پالیسی اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس نظام کا آغاز آغا خان یونیورسٹی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، سنگاپور کی ڈیوک-این یو ایس میڈیکل اسکول اور ایشیا پیتھوجن جینومکس انیشیٹو کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر عمران نثار نے بتایا کہ گندے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کرکے بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے جینیاتی آثار کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، جس سے اسہال، سانس کی بیماریوں، پولیو، خسرہ، ہیپاٹائٹس، ٹی بی، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، کورونا، انفلوئنزا، ایم پاکس، ڈینگی، زیکا وائرس اور اینٹی بائیوٹک مزاحم جراثیم سمیت متعدد بیماریوں کی موجودگی کا اندازہ طبی رپورٹس سامنے آنے سے پہلے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس نظام کو صحت عامہ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روایتی طبی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گا اور بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ سے قبل متعلقہ اداروں کو بروقت خبردار کرے گا۔ این آئی ایچ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سلمان نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عارضی منصوبوں سے نکال کر ایک مربوط اور پائیدار قومی بیماری نگرانی پروگرام کی جانب لے جائے گا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے سات ماہ تک ہر دو ہفتے بعد لیے گئے نمونوں میں ہیضہ اور اسہال پیدا کرنے والے جراثیم کی نمایاں موجودگی سامنے آئی۔ ماہرین کے مطابق اس نظام کو ملک کے موجودہ انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس پروگرام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ بیماریوں کی بروقت نشاندہی، مؤثر منصوبہ بندی اور فوری حفاظتی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
Source: WASH.pk