حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ہیومن ریسورس افسر پر دوہری ملازمت کا انکشاف،محکمہ بہبود آبادی میں سوشل موبلائزر کی نوکری بھی کر رہا ہے

حیدرآباد: حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلیٰ انتظامی عہدے پر ایک مبینہ انتظامی بے ضابطگی سامنے آئی ہے، جہاں ادارے کے چیف ہیومن ریسورس افسر نعیم شورو کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ بیک وقت سندھ حکومت کے محکمہ بہبود آبادی میں بھی ملازم ہیں۔

ذرائع کے مطابق نعیم شورو کو 3 اپریل 2025 کو HWSC میں چیف ہیومن ریسورس افسر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہیں ماہانہ تقریباً 4 لاکھ روپے تنخواہ اور مراعات دی جا رہی تھیں، تاہم ریکارڈ کے مطابق وہ گزشتہ 12 سے 13 سال سے محکمہ بہبود آبادی میں بھی ملازمت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ بہبود آبادی میں وہ کم گریڈ ملازم کے طور پر تعینات ہیں اور جون 2026 میں انہیں وہاں سے 44 ہزار 160 روپے تنخواہ بھی ادا کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ HWSC میں تقرری کے وقت انہوں نے خود کو ایک نجی ادارے کا ملازم ظاہر کیا، جبکہ سرکاری ملازمت کا ذکر نہیں کیا، جس کے باعث ان کی اہلیت بھی سوالیہ نشان بن گئی۔ HWSC کے چیف ایگزیکٹو افسر طفیل ابڑو نے تصدیق کی ہے کہ انہیں نعیم شورو کی محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت کا پے سلپ ملا ہے اور معاملہ جلد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر متعلقہ معلومات چھپائی گئی ہیں، جس پر بورڈ فیصلہ کرے گا۔ دوسری جانب HWSC میں افسران کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور تھی، تاہم بورڈ نے کارکردگی کا جائزہ لینے تک اس معاملے کو مؤخر کر دیا۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں تقرریوں اور ملازمین کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جائے تاکہ انتظامی شفافیت برقرار رہ سکے۔

متعلقہ خبریں