پشاور ہائیکورٹ نے واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں کے سربراہان کے طور پر سول افسران کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے دی
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں (WSSCs) کے چیف ایگزیکٹو افسران (CEOs) کے طور پر سول سرونٹس کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 2024 میں جاری کیے گئے تقرری کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیے ہیں۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 11 ستمبر 2024 کو چھ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں کے CEOs کی حیثیت سے سول افسران کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن نہ صرف قانون کے خلاف تھے بلکہ کارپوریٹ گورننس کے اصولوں سے بھی متصادم تھے۔
عدالت نے انجینئر محمد نعیم خان کی جانب سے دائر درخواست کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر CEOs کی باقاعدہ تقرری کا عمل مکمل کیا جائے۔
عدالت نے عبوری انتظام کے طور پر ہدایت دی کہ ہر کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عارضی طور پر CEO کے فرائض انجام دیں گے تاکہ بورڈ اجلاس طلب کیے جا سکیں، اہلیت اور معیار مقرر کیے جا سکیں، آسامی مشتہر کی جا سکے اور قانون کے مطابق تقرری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
عدالت نے درخواست گزار کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا کہ چونکہ یہ تکنیکی نوعیت کی سروس ہے اس لیے CEO کے عہدے پر لازماً انجینئر تعینات ہونا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ پبلک سیکٹر کمپنی کو ملازمت کی ضروریات کے مطابق معیار اور اہلیت کا تعین کرنا ہوگا۔
متاثرہ چھ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیاں پشاور، بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان اور سوات میں قائم ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل شمائل احمد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ WSSCs پبلک سیکٹر لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جو کمپنیز ایکٹ کے تحت قائم کی گئی ہیں اور ان کے اپنے میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن (AoA) موجود ہیں، جن کے مطابق CEO کی تقرری کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت کسی سول سرونٹ کو محض تبادلے یا تعیناتی کے ذریعے ان کمپنیوں کا CEO مقرر نہیں کیا جا سکتا۔
صوبائی حکومت کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنیز ایکٹ کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ جہاں اکثریتی ڈائریکٹرز حکومت کی جانب سے نامزد ہوں وہاں چیف ایگزیکٹو مقرر کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دنیا بھر میں پانی، صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور بنیادی عوامی خدمات جیسے شعبوں کے لیے پبلک سیکٹر کمپنیوں کا قیام بہتر کارکردگی، خودمختاری اور مؤثر فیصلہ سازی کے لیے کیا جاتا ہے