کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں غذائی تحفظ، عوامی سہولیات، حکمرانی، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں گندم کے ذخائر مستحکم رکھنے، سرکاری ملازمین کے الاؤنسز میں اضافے، چار اسٹریٹجک ٹاسک فورسز کے قیام اور تعلیمی بورڈز میں اصلاحات سمیت 22 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد سینئر وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے پاسکو سے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم خریدنے کی تجویز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت درآمدی گندم منگواتی ہے تو سندھ حکومت 5 لاکھ ٹن گندم خرید کرے گی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں 2025-26 کے دوران 47 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ مجموعی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن رہی۔ تاہم بڑھتی ہوئی کھپت کے باعث مارچ 2027 تک تقریباً 21 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے، چھپائے گئے گندم کے ذخائر برآمد کرنے اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی ہدایت کی۔
کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے 2 فیصد تفریقی الاؤنس اور تمام صوبائی ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ معذور ملازمین کے خصوصی سفری الاؤنس کو بھی 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا۔
اجلاس میں معیشت، مالیات و صنعت، آبی شعبے، موسمیاتی تبدیلی اور سندھ مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے چار ٹاسک فورسز قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ ان ٹاسک فورسز میں ماہرین تعلیم، تکنیکی ماہرین اور صنعتی نمائندگان شامل ہوں گے جو حکومت کو پالیسی سازی میں معاونت فراہم کریں گے۔
کابینہ نے سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026 کی بھی منظوری دی، جس کے تحت امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے، آن اسکرین مارکنگ، کیو آر کوڈ سرٹیفکیٹس اور آن لائن تصدیقی خدمات متعارف کرائی جائیں گی۔ اصلاحات پر 24 ماہ میں مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔
اجلاس میں گٹکا، ماوا اور مین پوری کے خلاف قانونی کارروائی مزید مؤثر بنانے کے لیے سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس اینڈ ریسٹرکٹڈ سبسٹینسز ایکٹ میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے صحت، پانی، شہری سہولیات اور انفراسٹرکچر سے متعلق متعدد منصوبوں کی بھی منظوری دی، جن میں میرپورخاص واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا قیام، شکارپور کے آر بی یو ٹی اسپتال کو تدریسی اسپتال قرار دینا، کراچی میں ناردرن بائی پاس پر جدید لاجسٹک پارک کے قیام اور ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے پانی کی پائپ لائن منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت شامل ہے۔