اسلام آباد میں طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کا شیڈول جاری کر دیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس سے انتخابی عمل دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق نقشوں اور متعلقہ ڈیٹا کے حصول سمیت انتظامی امور 22 جولائی سے 31 جولائی تک مکمل کیے جائیں گے، جبکہ حلقہ بندی کا عمل 13 اکتوبر کو حتمی حلقہ جات اور یونین کونسلز کی فہرستوں کی اشاعت کے ساتھ مکمل ہوگا۔ اس کے بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔

اسلام آباد کی سابق بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہو گئی تھی، تاہم اس کے بعد مختلف وجوہات اور قانونی ترامیم کے باعث انتخابات مسلسل مؤخر ہوتے رہے۔

منتخب مقامی نمائندے نہ ہونے کے باعث اسلام آباد کے تقریباً 25 لاکھ شہری پانی کی قلت، خراب سڑکوں اور دیگر شہری مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف حکومتوں نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے اعلانات کیے، تاہم بعد میں مقامی حکومت کے نظام کو بہتر بنانے کے نام پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔

جنوری 2026 میں صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دی۔

اس آرڈیننس کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز بنانے، حکومت کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات بڑھانے اور اس کی مدت کو غیر معینہ بنانے کی شقیں شامل کی گئیں۔

یہ ترامیم اس وقت سامنے آئیں جب اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو ہونے والے تھے اور تمام 125 یونین کونسلز سے ہزاروں امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے تھے۔

نئے آرڈیننس کے مطابق بلدیاتی حکومت کے قیام تک ایڈمنسٹریٹر عہدے پر برقرار رہ سکے گا جبکہ اسے ٹیکس، فیس، ریٹ، کرایہ، ٹول اور سرچارج عائد کرنے کے اختیارات بھی دیے گئے۔

نئے نظام کے تحت اسلام آباد میں تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی، جن کی حدود بڑی حد تک قومی اسمبلی کے تین حلقوں کے مطابق ہوں گی۔

سیاسی اختلافات

فروری 2026 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری کیے جانے کے بعد تحریک انصاف کے اسلام آباد چیپٹر نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت شکست کے خوف سے انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کرے گی۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کے سابق ڈپٹی میئر سید ذیشان علی نقوی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترامیم کا مقصد اسلام آباد میں بہتر بلدیاتی نظام قائم کرنا ہے اور مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا سلسلہ 2021 سے جاری ہے۔ سابق بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد آئینی طور پر 120 دن کے اندر انتخابات ہونا تھے، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) حکومت کے دور میں بھی یونین کونسلز کی تعداد پر اختلافات کے باعث انتخابات تاخیر کا شکار رہے۔ ابتدا میں 50 یونین کونسلز میں انتخابات کا فیصلہ کیا گیا، بعد میں تعداد بڑھا کر 101 اور پھر 125 یونین کونسلز کر دی گئی۔

جب 125 یونین کونسلز کی بنیاد پر انتخابات کی تیاریاں مکمل ہوئیں تو جنرل نشستوں میں اضافے اور اسلام آباد کے بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث عمل دوبارہ رک گیا۔

اب الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ انتخابات واقعی انہی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر منعقد ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں