شندور فیسٹیول کے بعد سیاحوں کا کچرا یاکس کی ہلاکتوں کی وجہ بننے لگا، مقامی افراد کا مؤثر ویسٹ مینجمنٹ کا مطالبہ
چترال: اپر چترال کی وادی لاسپور کے مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شندور فیسٹیول کے دوران سیاحوں کی جانب سے چھوڑا جانے والا ٹھوس کچرا یاکس (مقامی زبان میں "زوغ”) کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور ان کی آبادی میں مسلسل کمی کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔ مقامی سماجی و سیاسی رہنما سہروردی خان یفتالی نے بتایا کہ 1982 میں شندور فیسٹیول کے باقاعدہ آغاز کے بعد ہر سال ہزاروں سیاح علاقے کا رخ کرتے ہیں، مگر فیسٹیول کے اختتام پر پولو گراؤنڈ اور گردونواح میں بڑی مقدار میں پلاسٹک، خوراک کا بچا ہوا سامان اور دیگر کچرا چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق چراگاہوں میں چرنے والے یاکس اور دیگر مویشی یہ آلودہ مواد کھا لیتے ہیں، جس سے وہ مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یاک وادی کی معیشت، ثقافت اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے، جس کا دودھ، گوشت، بال اور زرعی کاموں میں استعمال مقامی لوگوں کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں یاکس کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ رواں سال 11 سے 13 جون تک ہونے والے شندور فیسٹیول کے بعد بھی کم از کم 15 یاکس کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ مقامی رہائشی اور ریٹائرڈ سرکاری افسر یوسف شہزاد نے کہا کہ شندور وادی کی اہم چراگاہ ہے، لیکن حکومت اب تک وہاں ٹھوس کچرے کے مؤثر انتظام کا کوئی مستقل نظام قائم نہیں کر سکی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شندور فیسٹیول کے دوران جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، صفائی کے سخت انتظامات اور ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ نایاب یاکس، چراگاہوں اور قدرتی ماحول کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔