سی ڈی اے نے اسلام آباد میں صفائی کے نظام کی آؤٹ سورسنگ کے لیے 16 ارب روپے کے مالیاتی ٹینڈرز کھول دیے
اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں صفائی اور کچرا اٹھانے کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے 16 ارب روپے مالیت کے منصوبے کے مالیاتی ٹینڈرز کھول دیے ہیں، جس کے بعد چار سالہ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مالیاتی بولیوں میں دو کمپنیوں کے اشتراک (جوائنٹ وینچر) شامل تھے، جن میں اٹلس پاک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ترک کمپنی) اور این جے سی، ایم ایم سی اور امپیریل وینچر پر مشتمل جوائنٹ وینچر شامل ہیں۔ ترک کمپنی نے شہری اور دیہی دونوں پیکجز کے لیے سب سے کم مالیاتی بولی جمع کرائی۔
اس منصوبے کے تحت منتخب کمپنی اسلام آباد بھر سے کچرا جمع کرنے، اسے راولپنڈی کے لوسر لینڈ فل سائٹ تک منتقل کرنے اور وفاقی دارالحکومت میں صفائی کے انتظامات کی ذمہ دار ہوگی۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق ترک کمپنی کی بولی دوسری کمپنی کے مقابلے میں 380 ملین روپے کم رہی۔ اب اس بولی کا جائزہ کنسلٹنٹ لے گا، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر چار سال کے لیے باضابطہ طور پر ٹھیکہ دیا جائے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ترک کمپنی کو تکنیکی جانچ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل ہونے کے باوجود ابتدا میں تکنیکی بنیادوں پر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ جس دستاویز کی بنیاد پر اسے نااہل قرار دیا گیا، وہ اسی روز جمع کرائی گئی مالیاتی بولی کے ساتھ پہلے ہی سی ڈی اے کے پاس موجود تھی۔
ذرائع کے مطابق معاملہ سی ڈی اے چیئرمین سہیل اشرف کے نوٹس میں آنے پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مطلوبہ دستاویز اتھارٹی کے پاس موجود تھی تو کمپنی کو کس قانون کے تحت غیر موزوں قرار دیا گیا۔
بعد ازاں کمپنی کی شکایت پر گریوینس ریڈریسل کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لیا اور ترک کمپنی کو دوبارہ اہل قرار دیتے ہوئے مالیاتی بولی میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر ترک کمپنی کو دوبارہ شامل نہ کیا جاتا تو سی ڈی اے کو اس منصوبے میں 380 ملین روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا تھا۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران صفائی کے اس منصوبے کے لیے کئی مرتبہ ٹینڈرز جاری کیے گئے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر منسوخ ہوتے رہے۔ گزشتہ صفائی کا معاہدہ فروری 2025 میں ختم ہونے کے بعد دیہی علاقوں میں باقاعدہ کچرا اٹھانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں رہا۔
اس وقت اسلام آباد کے کئی دیہی علاقوں کے مکین کھلے میدانوں اور نالوں میں کچرا پھینکنے پر مجبور ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سی ڈی اے کے تقریباً 1,100 مستقل سینیٹیشن ورکرز بھی نئے کنٹریکٹر کے ساتھ صفائی کے کام میں خدمات انجام دیں گے۔
واضح رہے کہ 1960 میں قائم ہونے والی سی ڈی اے آج تک اسلام آباد کے لیے مستقل لینڈ فل سائٹ قائم نہیں کر سکی۔ گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی دارالحکومت کا کچرا راولپنڈی کے لوسر لینڈ فل سائٹ منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے قبل سیکٹر آئی-12 میں کچرا ڈمپ کیا جاتا تھا۔