اسلام آباد صفائی منصوبہ: سی ڈی اے میں ٹینڈر پر اعتراضات، شکایت کی سماعت مکمل
اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بڑے پیمانے پر صفائی، کچرا جمع کرنے اور لینڈ فل سائٹ تک منتقلی کے منصوبے کے ٹینڈر سے متعلق ایک جوائنٹ وینچر کی شکایت کی سماعت کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے جاری کیے گئے ملٹی بلین روپے کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کے لیے تین جوائنٹ وینچرز نے بولیاں جمع کرائی تھیں، تاہم تکنیکی جانچ کے مرحلے میں دو امیدواروں کو نان ریسپانسیو قرار دے دیا گیا، جس کے بعد صرف ایک جوائنٹ وینچر مقابلے میں رہ گیا۔
ذرائع کے مطابق پیکیج ون کے لیے این جے سی، ایم ایم سی، این سی ایس اور امپیریل وینچرز پر مشتمل جوائنٹ وینچر جبکہ اٹلس پاک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی مد مقابل تھے، جبکہ پیکیج ٹو کے لیے بھی مختلف جوائنٹ وینچرز نے حصہ لیا تھا۔ اٹلس پاک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے اپنی نااہلی کے خلاف سی ڈی اے میں شکایت دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے پیپرا قوانین اور بولی دستاویزات کے برخلاف نااہل قرار دیا گیا۔ کمپنی کے نمائندوں نے سماعت کے دوران کہا کہ جس دستاویز کی بنیاد پر انہیں نااہل کیا گیا وہ دراصل مالیاتی بولی کے ساتھ پہلے ہی جمع کرائی جا چکی تھی اور سی ڈی اے کے پاس موجود تھی۔ سی ڈی اے کی شکایتی کمیٹی نے دلائل سننے کے بعد ریکارڈ کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر مذکورہ جوائنٹ وینچر کو اہل قرار دیا جاتا ہے تو منصوبے کے لیے دونوں امیدواروں کے درمیان مالیاتی مقابلہ ہوگا اور کم ترین بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سی ڈی اے سے منصوبے کی لاگت، ٹائم لائن، تمام ٹینڈرز، بولی دہندگان کی جانچ رپورٹس، شکایات اور قانونی معاملات سمیت مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ادارہ پیپرا قوانین کے مطابق تمام کارروائی مکمل کر رہا ہے۔ صفائی کے نئے منصوبے کے تحت اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں کے لیے چار سالہ معاہدے کیے جائیں گے، جن پر سالانہ تقریباً 4 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس وقت سی ڈی اے شہری علاقوں میں اپنے عملے، نجی ورکرز اور مشینری کے ذریعے صفائی کا کام کر رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں مناسب نظام نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
Source: WASH.pk