پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ، دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی سطح بلند
لاہور: ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث پنجاب اور سندھ کے متعدد شہروں میں اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جبکہ دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کی آمد کم اور درمیانے درجے کے سیلاب کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ سندھ کے بدین، حیدرآباد، جامشورو، خیرپور، مٹیاری، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیرآباد، سجاول، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو محمد خان، تھرپارکر، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں بھی پانی جمع ہونے اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ واپڈا کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شدید بارشوں کے باعث تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تربیلا ڈیم اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش سے صرف 13 فٹ نیچے رہ گیا ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا ہے کہ مون سون بارشوں کا موجودہ سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور کنٹرول روم ہائی الرٹ پر ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق رواں مون سون سیزن کے دوران پنجاب میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 45 افراد جاں بحق اور 279 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر اموات بوسیدہ عمارتیں گرنے، ڈوبنے، کرنٹ لگنے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث ہوئیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور دریاؤں سے دور رہیں، بچوں کو برساتی پانی میں نہانے سے روکیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔