سی ڈی اے ملازمین کا سینی ٹیشن شعبے کی نجکاری کے خلاف احتجاج، فیصلے کی واپسی کا مطالبہ
اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ملازمین نے سینیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی مجوزہ نجکاری کے خلاف منگل کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی قیادت سی ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) نے کی، جس میں ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین اور صدر اورنگزیب خان نے کہا کہ سینیٹیشن شعبے کی نجکاری ملازمین کے روزگار اور ادارے کی کارکردگی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے اس اہم فیصلے میں منتخب مزدور نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔
یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو صاف، سرسبز اور خوبصورت رکھنے میں سینیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے کارکنوں کا بنیادی کردار ہے، لیکن اب انہی ملازمین کو نجکاری کی آڑ میں بے روزگار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نجکاری کے بجائے صفائی کے شعبے کو جدید مشینری، گاڑیوں، آلات اور مطلوبہ افرادی قوت فراہم کی جائے تاکہ شہری خدمات مزید مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری مسائل کا حل نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل کو خطرے میں ڈال دے گی۔
یونین نے چیئرمین سی ڈی اے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ملازمین کے منتخب نمائندوں سے مذاکرات کریں، سینیٹیشن اور دیگر شعبوں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیں، ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور عید و ایسٹر الاؤنس سمیت تمام واجبات فوری ادا کیے جائیں۔
دوسری جانب سی ڈی اے انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی اور کچرا اٹھانے کا نظام آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم مستقل ملازمین کی ملازمتیں اور ان کے تمام حقوق محفوظ رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 17.9 ارب روپے کے صفائی منصوبے کے لیے مالیاتی بولیاں کھولی جا چکی ہیں، جبکہ کم ترین بولی ایک مشترکہ کمپنی نے دی ہے۔ تاہم بعض تکنیکی نکات کی جانچ کے باعث معاملہ مشیروں کے سپرد کر دیا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں اس پر فیصلہ متوقع ہے۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کے تقریباً 1,100 مستقل سینیٹیشن ملازمین کو کنٹریکٹر کے ماتحت کام کرنے کی تجویز پر مزدور یونین کو شدید تحفظات ہیں۔ بعض حکام کے مطابق ماضی میں بھی اسلام آباد میں صفائی کا نظام آؤٹ سورس کیا گیا تھا، تاہم اس بار انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان مؤثر رابطے کے فقدان نے بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔