اسپانٹک کی چوٹی سے واپسی کے دوران خاتون کوہ پیما جاں بحق
اسلام آباد: پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق اسپانٹک کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر طبی پیچیدگی کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق 34 سالہ اسماء مشتاق نے کامیابی سے 7,027 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کی تھی اور چوٹی پر پہنچنے کے وقت ان کی طبیعت ٹھیک تھی۔ تاہم واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں اچانک شدید طبی مسئلہ پیش آیا۔
اسماء کو ان کے ماؤنٹین گائیڈ اکبر علی اور ایکسپیڈیشن گائیڈ محمد امین نے فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم انتہائی دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقے میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جاسکی۔
ماہرین کے مطابق بلند پہاڑی علاقوں میں آکسیجن کی کمی اور جسم کا بلندی کے ماحول سے مناسب طور پر ہم آہنگ نہ ہونا سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پروفائلز کے مطابق اسماء مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں بحیثیت ڈاکٹر امراضِ نسواں اور زچگی کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ طب کے علاوہ وہ سفر، وی لاگنگ اور کوہ پیمائی کا شوق رکھتی تھیں اور اپنی مہمات کو سوشل میڈیا پر دستاویزی شکل میں شیئر کرتی تھیں۔
انہوں نے اس سے قبل 4,076 میٹر بلند موسیٰ کا مصلیٰ چوٹی کی موسم سرما میں کامیاب مہم بھی مکمل کی تھی جبکہ رُپل اور ارندو کے علاقوں میں کوہ پیمائی کی مہمات کا بھی حصہ رہی تھیں۔ 2024 میں K2 مہم کے لیے اسپانسرشپ کی درخواست کے دوران انہوں نے خود کو ’’ڈاکٹر اور کوہ پیما‘‘ کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز احمد شگری کے مطابق اسماء پانچ رکنی پاکستانی خواتین کی اس ٹیم کا حصہ تھیں جس نے اسپانٹک سر کی۔ ٹیم میں زونی اسلم، زابا شگری، شاما اور سوہانا بھی شامل تھیں۔
معروف کوہ پیما شہروز کاشف نے بھی اسماء کی مدد کے لیے مشکل حالات میں ان کے ساتھ رہنے والے ماؤنٹین گائیڈز کی کوششوں کو سراہا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد خان کی قیادت میں کلب نے اسماء مشتاق کی ہمت اور کوہ پیمائی کے جذبے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو خاندان اور پاکستان کی کوہ پیمائی برادری کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
SEO Keyphrase: اسپانٹک چوٹی پاکستانی خاتون کوہ پیما اسماء مشتاق