سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 پیش، خصوصی کمیٹی ایک ہفتے میں رپورٹ دے گی
کراچی: سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 پیش کردیا، جبکہ بل کا جائزہ لینے اور ایک ہفتے کے اندر ایوان میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی۔
مجوزہ ترامیم میں اہم تجویز یہ ہے کہ بلدیاتی کونسل کی مدت مکمل ہونے کے بعد موجودہ میئر یا چیئرمین نئے منتخب سربراہ کے عہدہ سنبھالنے تک بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے اختیارات اور فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کی درخواست کرے گی، جبکہ انتخابات بھی 120 روز کے اندر کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل میں ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کی عدم موجودگی یا پاکستان سے باہر ہونے کی صورت میں حکومت کو ان کی ذمہ داریاں کسی دوسرے رکن کو سونپنے کا اختیار دینے کی بھی تجویز ہے۔
مجوزہ قانون میں ہر یونین کونسل، یونین کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی میں مصالحتی فورمز (Reconciliation Forums) قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ہر فورم تین مصالحت کاروں پر مشتمل ہوگا، جنہیں کونسل ایسے مقامی رہائشیوں میں سے نامزد کرے گی جو دیانت داری، بہتر فیصلے کی صلاحیت اور معاشرے میں اچھی شہرت رکھتے ہوں۔ فورمز مقامی تنازعات کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق باہمی رضامندی سے حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔
بل کے تحت مصالحت کاروں کی مدت کونسل کی مدت کے برابر ہوگی، جبکہ مسلسل جانبداری یا بدعنوانی کی صورت میں انہیں عہدے سے ہٹایا جاسکے گا۔
مجوزہ ترامیم میں یونین کونسلوں کو اپنے علاقوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل، بلڈنگ کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کرنے اور کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری دینے کی بھی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری خدمات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے تفصیلی نقشوں کو متعلقہ دستاویزات میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ بلدیاتی کونسلوں کو ادارے آزادانہ طور پر یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے قائم کرنے کا اختیار دینے کی بھی تجویز ہے۔
سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے بل کو خصوصی کمیٹی کے سپرد کردیا، جسے ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔