کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک بھر، بالخصوص سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کے حق میں اتوار کو کراچی میں بڑی ریلی نکالی۔ ریلی میں خواتین سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان اور حامی پارٹی پرچم اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے عائشہ منزل کے قریب شاہراہ پاکستان پر جمع ہوئے، جہاں سے گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مزار قائد کی جانب روانہ ہوا۔ مزار قائد کے قریب پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے شرکا سے خطاب کیا۔
پارٹی کے مطابق ریلی کا انعقاد ایم کیو ایم پاکستان کے ڈسٹرکٹ سینٹرل چیپٹر کی جانب سے کیا گیا تھا۔
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد اور میرپورخاص کے عوام کی جانب سے مطالبے کی حمایت کے بعد کراچی کے شہریوں نے بھی نئے انتظامی یونٹس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ آج ملک بھر میں زیر بحث ہے۔ ان کے بقول موجودہ ریلی پارٹی کارکنوں اور عوام کے عزم کا اظہار ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن انتظامی یونٹس کے لیے جدوجہد کے آغاز کا دن ہے، اختتام کا نہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 18 سال سے جاری صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے اور سندھ کے عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کراچی کے ساتھ ساتھ لاڑکانہ، سکھر، نواب شاہ، میرپورخاص، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کے مستقبل میں بھی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ اتوار کی ریلی نے یہ پیغام دیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں کے عوام اپنے انتظامی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔