کراچی: پولیس نے اتوار کی شام جماعت اسلامی کے نصف درجن سے زائد منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ان کے علاقوں سے حراست میں لے لیا، تاہم کسی وجہ یا باضابطہ وضاحت کے بغیر پیر کی علی الصباح انہیں رہا کردیا گیا۔ پولیس کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ جماعت اسلامی نے اسے منتخب نمائندوں کو اغوا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سے وضاحت طلب کرلی۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پولیس کے ذریعے جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کورنگی، گلشن اقبال، جمشید اور لانڈھی ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف علاقوں سے یونین کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور دیگر منتخب نمائندوں کو حراست میں لیا گیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو قانونی جواز کے بغیر اٹھانا، انہیں مختلف مقامات پر منتقل کرنا اور ان کے اہل خانہ و پارٹی ساتھیوں کو ان کے بارے میں آگاہ نہ کرنا پولیس گردی اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ آخر منتخب نمائندوں نے ایسا کون سا جرم کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں حراست میں لیا گیا۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے کہا کہ اگر شہر کی خدمت، سڑکوں کی تعمیر، پارکوں کی بہتری، تعلیمی اداروں کی ترقی اور شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا جرم ہے تو جماعت اسلامی یہ کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے زیر انتظام نو ٹاؤنز میں ترقیاتی سرگرمیوں اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے کام کرتی رہے گی۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کراچی یونیورسٹی کو آٹھ بسیں فراہم کرنے سمیت مختلف ترقیاتی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دباؤ اور پولیس کارروائیاں جماعت اسلامی کو عوامی خدمت سے نہیں روک سکتیں۔
منعم ظفر خان نے پیٹرولیم لیوی اور اضافی ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی مہم جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے عوامی مسائل حل کرنے اور شہری سہولتوں میں بہتری لانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت انہیں آئینی تحفظ کے ساتھ مالی اور انتظامی اختیارات بھی فراہم کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے باوجود سندھ حکومت اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن (پی ایف سی) ایوارڈ پر گزشتہ 18 برس سے عمل درآمد نہیں ہوا، جس کے باعث مقامی حکومتیں شہری مسائل حل کرنے کے لیے درکار وسائل سے محروم ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شہر کا تعلیمی نظام، بلدیاتی ادارے اور شہری ثقافت شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پر بھی کراچی کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔