نیب کا کرپشن کیسز کی حد 50 کروڑ سے کم کرکے 5 کروڑ روپے کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات پر عائد پابندی سے متعلق قانون پر نظرثانی کی جائے اور اس حد کو کم کرکے 5 کروڑ روپے کیا جائے۔
نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے حالیہ میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ادارے نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ کرپشن کیسز میں کارروائی کے لیے مالی حد کم کی جائے تاکہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیب نے قبضہ مافیا سے کھربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی ہے، جس میں پاکستان ریلوے کی 2 لاکھ 35 ہزار 622 کنال زمین بھی شامل ہے۔نیب چیئرمین کے مطابق ادارہ منی لانڈرنگ کے معاملات پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے سرمایہ کاری اور اخراجات کے لیے استعمال ہونے والی رقوم کے ذرائع کی مناسب جانچ نہیں کی جاتی۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو معلوم ہوا ہے کہ ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے والدین بھاری فیسیں ادا کر رہے ہیں، تاہم مغربی ممالک میں متعلقہ حکام ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سرمایہ کاروں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، کیونکہ بعض سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔سرکاری اراضی اور اثاثوں کی ریکوری نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد اولکھ کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ادارے نے 9.18 کھرب روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرائی، جس کے بعد 2023 سے اب تک مجموعی ریکوری 11.524 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ان کے مطابق نیب کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 2026 کے دوران اب تک قیمتی سرکاری اراضی اور دیگر اثاثوں کی مجموعی مالیت 14.6 کھرب روپے رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ 4,280 افراد کو ان کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے 90 کروڑ 80 لاکھ روپے واپس کیے گئے۔امجد اولکھ کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی 2 لاکھ 35 ہزار 622 کنال زمین واگزار ہونے کے بعد ادارہ جلد مالی طور پر خودکفیل ہو سکے گا اور بڑے ریلوے منصوبے شروع کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔نیب چیئرمین کے مطابق واگزار کرائی گئی پاکستان ریلوے کی زمین کی مالیت 6.78 کھرب روپے ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت کراچی سے پشاور تک اضافی ریلوے ٹریک بچھانے کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے بیرونی قرضوں کے حصول کی کوشش کر رہی ہے۔
نیب چیئرمین نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی اراضی کی ریکوری کے بعد ادارے کا اگلا ہدف بجلی کے شعبے، متروکہ وقف املاک بورڈ، سرکاری ملکیتی اداروں اور کان کنی و معدنیات کے شعبوں میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنا ہے۔سیکریٹری ریلوے سید مظہر علی شاہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیب نے بڑی مقدار میں قبضہ شدہ اراضی واگزار کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ واگزار کرائے گئے اثاثوں کی فروخت کے لیے ایک شفاف اور مؤثر طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے تاکہ حاصل ہونے والی رقم مستقبل کے منصوبوں، ریلوے کی اپ گریڈیشن اور خدمات کی بہتری پر خرچ کی جا سکے۔