کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کی راہ میں حائل زمین اور رائٹ آف وے سے متعلق تمام مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے پاکستان ریزیڈنٹ مشن کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سمیت سندھ میں جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سندھ حکومت نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار KCR کی بحالی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے رابطہ کیا ہے۔ مئی میں ADB کے وفد نے سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ سے ملاقات میں منصوبے کی بحالی کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی مالی معاونت پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس میں ابتدائی طور پر ڈیزائن کے جائزے، آپریشنل پلاننگ، ادارہ جاتی انتظامات اور فنانسنگ ماڈل سمیت تیاری کے کاموں کے لیے 10 ملین ڈالر شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ KCR کراچی کے لیے ایک اہم اور تبدیلی لانے والا منصوبہ ہے اور اسے برسوں سے مکمل ہونے کا انتظار ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے زیر التوا معاملات حل کرکے منصوبے کو عملی مرحلے میں لے جائے گی۔
ملاقات میں KCR کے حوالے سے آئندہ اقدامات میں ٹرمز آف ریفرنس کو حتمی شکل دینے، زمین کی دستیابی کی تصدیق اور منصوبے کے ڈیزائن پر پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں ADB کے تعاون سے جاری ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 26.6 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ ملیر ہالٹ سے نمائش تک پھیلا ہوا ہے اور تقریباً 15 لاکھ افراد کو محفوظ، مؤثر اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرے گا۔ ADB حکام کے مطابق منصوبے پر تعمیراتی کام جاری ہے، یوٹیلیٹی منتقلی کا کام تکمیل کے قریب ہے جبکہ مختلف حصوں میں کوریڈور کی تعمیر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ملاقات میں سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے تحت سندھ کے 10 اضلاع میں 116 جدید سیکنڈری اسکول بلاکس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسکولوں کے پہلے مرحلے کی تکمیل اہم پیش رفت ہے اور حکومت رواں سال کے اختتام تک 200 سے زائد اسکول جبکہ آنے والے مہینوں میں مختلف پروگراموں کے تحت 800 سے زائد اسکول مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
حکام کے مطابق پانچ اہم مضامین میں 2,630 سیکنڈری اسکول اساتذہ کی تربیت مکمل کرلی گئی ہے۔ اجلاس میں منصوبے کی تکمیل تک پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو کی مدتِ تعیناتی برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
SSEIP کے اضافی فنانسنگ پروگرام کے تحت سیلاب سے متاثرہ پانچ اضلاع میں 722 اسکولوں کی تعمیر نو کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے بتایا کہ مرحلہ وار پروگرام کے تحت اکتوبر 2026 سے جون 2027 کے درمیان 495 تعمیر نو شدہ اسکول حوالے کیے جانے کی توقع ہے۔
ADB کی کنٹری پروگرامنگ مشن نے 2026 سے 2030 تک مستقبل میں تعاون کے لیے مختلف منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں سندھ نرسنگ اینڈ ہیلتھ ورک فورس اسٹرینتھننگ پروجیکٹ، ڈیجیٹلائزیشن اینڈ اے آئی اینیبلمنٹ پروجیکٹ اور سندھ ایکسیلیریٹڈ ٹرانسفارمیٹو رورل واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین (STAR-WASH) شامل ہیں۔
ملاقات میں سندھ سسٹین ایبل موبیلیٹی پروجیکٹ بھی زیر بحث آیا، جس کے تحت حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ ADB کے مطابق اس منصوبے کے لیے تقریباً 300 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کو شہری نقل و حرکت بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت کی۔