گجرات میں قتل کے مقدمے میں اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد
گجرات: ضلع گجرات کی مقامی عدالت نے زارا مجاہد کے مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار دو پولیس انسپیکٹرز کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔
کھاریاں کے ایڈیشنل سیشن جج عمران خورشید کی عدالت نے پیر کے روز کیس کی سماعت کے دوران انسپیکٹر فہد الرحمٰن اور انسپیکٹر اعجاز احمد کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
دونوں پولیس افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے زارا مجاہد کے قتل میں ملوث مبینہ ملزمان کی معاونت کی۔ الزامات سامنے آنے کے بعد دونوں افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کی گئی تھی۔
مقدمے میں زارا مجاہد کے والد، بھائی، والدہ اور دیگر چار افراد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمہ جون 2026 میں زارا مجاہد کے قتل کے بعد درج کیا گیا۔
21 ستمبر کو پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے دونوں پولیس انسپیکٹرز کو گرفتار کیا تھا۔ انسپیکٹر فہد الرحمٰن گرفتاری کے وقت تھانہ صدر گجرات میں ایس ایچ او کے فرائض انجام دے رہے تھے، جبکہ انسپیکٹر اعجاز احمد ماضی میں تھانہ ٹانڈہ کے ایس ایچ او رہ چکے ہیں اور گرفتاری کے وقت ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں تعینات تھے۔
عدالت کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد وکیلِ صفائی نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق گجرات کے گاؤں چک سکندر سے تعلق رکھنے والی زارا مجاہد نے پسند کی شادی کی تھی۔ شادی کے بعد مبینہ طور پر خاندان کی جانب سے خطرے کے پیش نظر وہ اپنے شوہر کے ہمراہ اسلام آباد منتقل ہوگئی تھیں۔