ماہرین کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق غلط معلومات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات پر زور
اسلام آباد: ماہرین نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آن لائن پھیلائے جانے والے گمراہ کن بیانیے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں عوامی فہم کو متاثر کرنے اور قابلِ اعتماد معلومات پر اعتماد کم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ مطالبہ کوآلیشن اگینسٹ ڈس انفارمیشن (CAD) کے سالانہ اجلاس میں کیا گیا، جو معلومات تک عالمی سطح پر رسائی کے عالمی دن (IDUAI) کے موقع پر منعقد ہوا۔
اس سال کے عالمی دن کا موضوع ’’ڈیجیٹل دور میں معلومات کی سالمیت کا تحفظ: معلوماتی انتشار سے نمٹنے میں معلومات تک رسائی کا کردار‘‘ تھا۔
انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کی معاونت سے 2023 میں قائم ہونے والے CAD میں 40 سے زائد ادارے، جامعات اور انفرادی ماہرین شامل ہیں، جو معلوماتی خواندگی، حقائق کی جانچ اور عوام کو غلط معلومات کے خلاف زیادہ مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
اجلاس میں پاکستان میں آن لائن غلط معلومات اور معلوماتی انتشار کے تدارک کے لیے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، مختلف تجربات کا تبادلہ کیا گیا اور مشترکہ اقدامات کے لیے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔
اجلاس میں آٹھ جامعات، چار میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی میزبانی انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) نے اپنے IMS پروگرام کے تحت کی۔
IBA کراچی کے سینٹر فار ایکسیلنس اِن جرنلزم (CEJ) کے ڈائریکٹر شہزیب جیلانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں رونما ہونے والے شدید موسمی واقعات سے متعلق وائرل دعوؤں کی فیکٹ چیکنگ نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پروفیشنل فیکٹ چیکر اور آزاد محقق شہزیل زاہد نے اپنی جاری تحقیق کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تحقیق میڈیا اداروں کے لیے ایک عملی رہنما اصول تیار کرنے میں مدد دے گی، جس کے ذریعے وہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نقصان دہ غلط معلومات کی پہلے سے نشاندہی اور تدارک کر سکیں گے، جبکہ گمراہ کن دعوؤں کی بروقت شناخت اور تردید بھی ممکن ہو سکے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے IMS کے نمائندے عدنان رحمت نے ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی خطرات سے متعلق جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات کو قلیل مدت میں ایک سنگین خطرے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جو عدم استحکام کو ہوا دینے اور حکمرانی پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اتحاد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ معلومات کی سالمیت سے متعلق 2025 کی کوپن ہیگن کانفرنس میں سامنے آنے والے چار نکات پر اتفاقِ رائے کو اپنائیں۔