مری میں کلائمیٹ جرنلزم کے موضوع پر تین روزہ ورکشاپ
کلائمیٹ رپورٹنگ میں شواہد، حل اور عوامی ضروریات کو ترجیح دینے پر زور
اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) کے زیر اہتمام موسمیاتی صحافت کے موضوع پر تین روزہ ورکشاپ منعقد ہوئی، جس کا مقصد صحافیوں کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔
انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کے تعاون سے مری میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ میں موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹنگ کو تعمیری، شواہد پر مبنی اور ناظرین و قارئین کی ضروریات کے مطابق بنانے پر توجہ دی گئی۔
پریس ریلیز کے مطابق تربیت میں نیوز سے دوری، معلومات کی بھرمار، سنسنی خیزی اور عوامی سطح پر خبروں میں کم ہوتی دلچسپی جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
IRADA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے تعمیری صحافت کے تصور اور پاکستانی تناظر میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
واجد علی، آصف مہمند اور وقاص نعیم نے تربیتی سیشنز کی معاونت کی، جن میں شرکاء کو تعمیری صحافت کے تین بنیادی ستونوں، یعنی حل، متوازن و جامع اندازِ نظر اور قارئین و ناظرین کی شمولیت سے متعارف کرایا گیا۔
شرکاء نے جائزہ لیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خبریں محض سیلاب، گرمی کی لہروں، خشک سالی یا دیگر آفات کی رپورٹنگ تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے ممکنہ حل، ادارہ جاتی جوابدہی، ماحولیاتی موافقت، بحالی اور متاثرہ برادریوں کے لیے عملی راستوں پر بھی توجہ کیسے دے سکتی ہیں۔
ورکشاپ میں موسمیاتی تبدیلی کو ایک ایسے کثیرالجہتی مسئلے کے طور پر بھی زیر بحث لایا گیا جو روزگار، معاش، عدم مساوات، ہجرت، طرز حکمرانی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔
تربیت کے دوران بی بی سی یوزر نیڈز ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے شرکاء نے باہمی تعاون سے موسمیاتی کہانیوں کے آئیڈیاز تیار کیے اور اس بات پر غور کیا کہ موسمیاتی رپورٹنگ کو عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ کرکے زیادہ متعلقہ، مفید اور مؤثر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔
ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو ایسی موسمیاتی رپورٹنگ کے لیے تیار کرنا تھا جو مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ عوام کو قابلِ عمل معلومات، حل اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے امکانات سے بھی آگاہ کرے۔