ا لیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 تک ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کر دی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 میں تین مراحل میں کرانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے صوبے میں انتخابات کا شیڈول فوری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب حکومت کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت نے 14 اکتوبر کو اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ دسمبر اور جنوری میں شدید سردی، دھند اور اسموگ کے باعث انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ فروری میں رمضان المبارک شروع ہونے کے باعث انتخابات کا انعقاد مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت نے بلدیاتی انتخابات 4، 11 اور 18 اپریل 2027 کو تین مراحل میں کرانے کی تجویز دی تھی۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کا عمل 20 اگست کو مکمل ہو چکا تھا، جس میں دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان بلدیاتی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ کمیشن کے مطابق اب صوبائی حکومت مجوزہ مدت میں تبدیلی چاہتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول فوری جاری کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے متعلقہ دفتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتخابی پروگرام کا مسودہ منظوری کے لیے فوری طور پر پیش کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لیے مجوزہ افسران کی فہرستیں بھی طلب کی تھیں، تاہم یہ فہرستیں تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیشن نے اس صورت حال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ مطلوبہ فہرستیں ایک ہفتے کے اندر فراہم کی جائیں۔

اس سے قبل پنجاب کے محکمہ بلدیات نے بدھ کو الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر انتخابات اپریل 2027 تک مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ خط میں صوبائی کابینہ کی وزارتی کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ دسمبر اور جنوری میں موسمی حالات انتخابی سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ رمضان المبارک کے باعث فروری میں بھی انتخابی انتظامات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خط کے مطابق وزارتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس 5 اکتوبر کو ہوا، جس میں الیکشن کمیشن کے مجوزہ انتخابی شیڈول پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے انتخابی عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، پولنگ کا سامان منتقل کرنے، انتظامی نگرانی بہتر بنانے اور ووٹرز کی پولنگ اسٹیشنوں تک رسائی آسان بنانے کے لیے انتخابات مرحلہ وار کرانے کی تجویز دی تھی۔

پنجاب کابینہ نے بدھ کی صبح کمیٹی کی سفارشات پر غور کے بعد 4، 11 اور 18 اپریل 2027 کو اتوار کے روز تین مراحل میں انتخابات کرانے کی تجویز منظور کی تھی۔ حکومت نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ اضلاع کو تین انتخابی مراحل میں تقسیم کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے ساتھ الگ اجلاس میں انتظامی، جغرافیائی، سیکیورٹی اور لاجسٹک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔

پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت ہوئے تھے۔ اکتوبر سے دسمبر 2015 کے دوران مختلف مراحل میں پولنگ ہوئی، جبکہ میئرز اور چیئرمینوں کے بالواسطہ انتخابات کے بعد منتخب بلدیاتی اداروں نے 2017 میں کام شروع کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپریل 2019 میں منتخب بلدیاتی اداروں کو ان کی مدت مکمل ہونے سے پہلے تحلیل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو بحال کر دیا، جنہوں نے بالآخر 31 دسمبر 2021 کو اپنی مدت مکمل کی۔

اس کے بعد پنجاب میں یکے بعد دیگرے آنے والی صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی قوانین میں متعدد ترامیم کیں یا نئے قوانین متعارف کرائے۔ ان قانونی تبدیلیوں کے باعث الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں اور انتخابی تیاریوں سمیت مختلف مراحل دوبارہ شروع کرنا پڑے، جس سے انتخابات میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی۔

آئین کے آرٹیکل 140 اے اور انتخابی قانون کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر انتخابات کرائے جانے چاہییں۔ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر 2021 میں ختم ہونے کے باعث انتخابات اپریل 2022 تک ہونا ضروری تھے، تاہم اب تک انتخابات نہیں ہو سکے۔

الیکشن کمیشن نے 5 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں بھی واضح کیا تھا کہ وہ صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل 6 اگست کو پنجاب کابینہ نے انتخابات کے انعقاد کے لیے 12 ارب 52 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی تھی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب حکومت کی نئی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد اب صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور انتخابی شیڈول کے اجرا سے متعلق پیش رفت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

متعلقہ خبریں