گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول جاری، گلگت، چلاس اور اسکردو میں 5 دسمبر کو پولنگ ہوگی
گلگت: گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے جمعرات کو خطے میں طویل عرصے سے التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری کرتے ہوئے گلگت، چلاس اور اسکردو کی میونسپل کارپوریشنوں کی نشستوں پر 5 دسمبر کو پولنگ کرانے کا اعلان کیا ہے۔
گلگت بلتستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا اعلان گزشتہ سال کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر پولنگ 14 فروری 2026 کو ہونا تھی۔ تاہم شدید سرد موسم، صوبائی حکومت کی درخواستوں اور بلدیاتی قانون میں ترامیم کے باعث انتخابات متعدد بار ملتوی کیے جا چکے ہیں۔
گلگت بلتستان الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے بتایا کہ انتخابات دو مراحل میں منعقد ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں گلگت، چلاس اور اسکردو کی میونسپل کارپوریشنوں کی نشستوں پر 5 دسمبر کو پولنگ ہوگی، جبکہ ڈسٹرکٹ کونسلوں، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات اپریل 2027 میں کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2014 میں ترامیم کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد طویل عرصے سے زیر التوا انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں گزشتہ 22 سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں انتخابی شیڈول جاری کرتے ہوئے فروری میں انتخابات کرانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے شدید سرد موسم کے باعث انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی۔
بعد ازاں رواں سال اگست کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول تیار کیا گیا اور ابتدائی طور پر ستمبر میں پولنگ کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن گلگت بلتستان حکومت نے بلدیاتی قانون میں ترامیم کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس کے باعث انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہوگئے۔
راجہ شہباز خان کے مطابق حکومت نے اب قانون میں ترامیم مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول کے حوالے سے وزیراعلیٰ امجد حسین سے بھی ملاقات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے متعارف کرایا ہے اور اسی قانون کے تحت انتخابات کرانے کا سہرا بھی پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ نئے قانون میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں آزاد امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ اس سے قبل انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا منصوبہ تھا۔
ان کے مطابق سابقہ بلدیاتی نظام میں شہری اور دیہی علاقوں کے لیے سات اقسام کے ادارے شامل تھے، جن میں ٹاؤن کمیٹیاں، میونسپل کمیٹیاں، میونسپل کارپوریشنیں، یونین کونسلیں، تحصیل کونسلیں اور ڈسٹرکٹ کونسلیں شامل تھیں۔
ترمیم شدہ قانون کے تحت بلدیاتی اداروں کی اقسام کو کم کرکے چار کردیا گیا ہے، جن میں ڈسٹرکٹ کونسلیں، یونین کونسلیں، میونسپل کمیٹیاں اور میونسپل کارپوریشنیں شامل ہیں۔
راجہ شہباز خان نے بتایا کہ چاروں اقسام کے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ملٹی وارڈ نظام کے تحت ہوں گے، جس سے انتخابی عمل کو آسان بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ڈسٹرکٹ کونسلوں، یونین کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین ہوں گے، جبکہ میونسپل کارپوریشنوں میں میئر اور ڈپٹی میئر منتخب کیے جائیں گے۔
نئے نظام کے تحت گلگت، چلاس اور اسکردو میں میونسپل کارپوریشنیں قائم کی گئی ہیں، جہاں منتخب کونسلرز اپنے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں یونین کونسلیں اور ڈسٹرکٹ کونسلیں بھی قائم کی گئی ہیں، جبکہ نئے قانون کے تحت تمام بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 17 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں گلگت، چلاس اور اسکردو کی میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ان علاقوں میں ڈسٹرکٹ کونسلیں اور یونین کونسلیں بھی کام کریں گی۔
نئے شیڈول کے اجرا کے بعد گلگت بلتستان میں 22 سال کے طویل وقفے کے بعد منتخب بلدیاتی اداروں کی بحالی کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں تین شہروں کی میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات دسمبر میں ہوں گے، جبکہ دیگر بلدیاتی اداروں کے انتخابات اپریل 2027 میں متوقع ہیں۔