الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول فوری جاری کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے انتخابی پروگرام فوری تیار کرکے جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کرائے جائیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ بینچ میں نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور اور چیف کمشنر اسلام آباد کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عزیر علی خان پیش ہوئے، جبکہ الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام نے بھی کارروائی میں شرکت کی۔

الیکشن کمیشن کے خصوصی سیکریٹری ظفر اقبال ملک نے بتایا کہ اسلام آباد میں حلقہ بندیوں کا عمل چھ مرتبہ مکمل کیا گیا اور انتخابات کے چار شیڈول جاری کیے گئے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات نہ ہوسکے۔ ان کے مطابق تازہ ترین حلقہ بندیاں 14 اکتوبر کو شائع کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہوگئی تھی۔ اس آرڈیننس کے تحت حلقہ بندیوں کے لیے ڈیٹا اور نقشے حاصل کیے گئے تھے، تاہم آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد انتخابی قواعد کی قانونی حیثیت اور منظوری کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔

خصوصی سیکریٹری کے مطابق وزارت داخلہ کو دو مرتبہ یاد دہانی کے خطوط بھی ارسال کیے گئے، جبکہ وزارت قانون نے قواعد کی جانچ پڑتال سے انکار کردیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے متبادل قانون منظور نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے 2015 کے قانون کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔

سیکریٹری داخلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 2015 کے قانون کی طرف واپسی کی صورت میں پہلے سے کیے گئے تمام اقدامات ختم کرنا پڑیں گے۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پرانے قانون کے تحت انتخابات کرانے سے حلقہ بندیاں متاثر نہیں ہوں گی۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کی جانب سے انتخابات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانا نہیں چاہتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات متعلقہ قانون کے مطابق کرانا ضروری ہیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر کمیشن حکم جاری کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے مختصر حکم میں متعلقہ دفتر کو ہدایت کی کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015، الیکشنز ایکٹ 2017 اور متعلقہ قواعد کے مطابق انتخابی پروگرام فوری جاری کیا جائے اور انتخابی عمل کی بروقت تکمیل کے لیے تمام ضروری اقدامات قانون کے مطابق تیزی سے کیے جائیں۔

اسلام آباد میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے، جن میں 50 یونین کونسلوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی تھی اور شیخ انصر عزیز پہلے میئر منتخب ہوئے تھے۔ مقامی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی، لیکن پانچ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نئے انتخابات نہیں ہوسکے۔

آئین کے آرٹیکل 140-اے اور الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن کو مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں قانون سازی میں بار بار تبدیلیوں اور یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافے کے باعث انتخابی عمل مسلسل تاخیر کا شکار رہا۔

ابتدائی طور پر 50 یونین کونسلوں کی بنیاد پر انتخابات کا منصوبہ بنایا گیا، جس کے بعد تعداد 101 اور پھر 125 کردی گئی۔ دسمبر 2022 میں 31 دسمبر کو انتخابات مقرر کیے گئے تھے، لیکن پولنگ سے چند روز قبل قانون میں ترمیم کے ذریعے یونین کونسلوں کی تعداد بڑھا دی گئی، جس کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل ملتوی کردیا۔

بعد ازاں 2026 میں 125 یونین کونسلوں کے لیے 15 فروری کو انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا، لیکن جنوری میں نافذ کیے گئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ قومی اسمبلی کے حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز بنانے کی تجویز سامنے آنے کے بعد شیڈول واپس لے لیا گیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے متبادل قانون سازی کی کوششیں بھی آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے سے پہلے مکمل نہ ہوسکیں۔ اب الیکشن کمیشن نے 2015 کے قانون کے تحت انتخابی عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں