لوئر چترال میں مسلسل سیلاب سے زرعی بحران، ہزاروں کسان معاشی تباہی کے دہانے پر
چترال: گزشتہ ایک ماہ کے دوران آنے والے مسلسل فلیش فلڈز نے لوئر چترال میں شدید زرعی بحران پیدا کر دیا ہے۔ سیلابی ریلوں نے آبپاشی کے نظام کو تباہ کر دیا، فصلیں سوکھ گئیں اور ہزاروں کسانوں کے روزگار اور خوراک کے ذرائع خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
سیلابی پانی نے پہاڑی ندی نالوں سے زرعی زمینوں تک پانی پہنچانے والی دیہی نہروں کے اہم آف ٹیک اور ڈائیورژن ڈھانچوں کو بہا دیا، جس کے باعث متعدد علاقوں میں آبپاشی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو گیا۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سنکولم، کول، گولدے بروز اور شیشی کوہ شامل ہیں، جہاں سرسبز کھیت بنجر زمین میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مکئی، دھان، سبزیاں اور مویشیوں کے لیے چارہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث سوکھ چکے ہیں۔
مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ یہی فصلیں ان کی خوراک اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ انگور، ناشپاتی، سیب اور دیگر باغاتی پیداوار فروخت کر کے وہ سال بھر کے اخراجات پورے کرتے تھے۔
بروز کے کسانوں نے کہا کہ "ہماری پوری گزر بسر انہی کھیتوں پر منحصر ہے۔ اب نہ فروخت کے لیے فصل باقی رہی ہے اور نہ ہی جلد ہمارے اپنے استعمال کے لیے خوراک بچے گی۔”
سیلاب نے پتھر اور مٹی سے بنے ان ڈھانچوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جو دیہی نہروں کو مرکزی ندی نالوں سے جوڑتے تھے۔ متاثرہ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تعمیر نو کے لیے بھاری مشینری اور خطیر مالی وسائل درکار ہیں، جو ان کی استطاعت سے باہر ہیں۔
بروز کے سابق ناظم امان اللہ نے بتایا کہ مقامی حکومت اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) قانونی طور پر ان ڈھانچوں کی بحالی کی ذمہ دار ہیں، تاہم ان کے پاس مطلوبہ فنڈز موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی محکمہ آبپاشی صرف انہی نہروں کی دیکھ بھال کرتا ہے جو اس نے خود تعمیر کی ہیں، جبکہ کمیونٹی کی تعمیر کردہ نہروں کی مرمت اس کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر خصوصی ہنگامی فنڈز جاری کرے تاکہ آبپاشی کا نظام بحال کیا جا سکے۔
سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے مویشی پالنے کے شعبے کو بھی شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ چترال میں کسان گرمیوں کے دوران گھاس اور چارہ خشک کر کے سردیوں کے لیے محفوظ کرتے ہیں، مگر پانی نہ ہونے کے باعث چراگاہیں بھی خشک ہو چکی ہیں۔
سنکولم کے رہائشی حاجی منور اور دیگر افراد نے بتایا کہ اگر موسم سرما کے لیے چارہ دستیاب نہ ہوا تو انہیں اپنے مویشی انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے یا انہیں بھوک سے مرتا دیکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
علاقے کے عمائدین نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے فوری مداخلت، خصوصی امدادی فنڈز کے اجرا اور تباہ شدہ آبپاشی نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے کی دیہی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا جا سکے۔