پنجاب کی زرعی پالیسیوں کے خلاف کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کا اعلان
اسلام آباد: کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں کو ناقص قرار دیتے ہوئے 25 ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی پالیسیوں نے زراعت کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب آج اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی گندم کی قلت کا سامنا کررہا ہے۔
کسان اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے کے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے کسان مارچ میں شرکت کریں گے اور اگر انہیں اسلام آباد پہنچنے سے روکا گیا تو وہ پیدل دارالحکومت کی جانب مارچ کریں گے۔
کسان رہنماؤں نے واضح کیا کہ سڑکیں بند کرنا ان کا مقصد نہیں، تاہم اپنے حقوق کے حصول کے لیے وہ ہر ممکن اقدام کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زراعت کے شعبے میں پیداوار بڑھا کر درآمدات پر انحصار کم اور برآمدات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ زیتون، کپاس، چاول، گندم، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے سے پاکستان عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن بہتر بناسکتا ہے۔
کسانوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی زمین، پانی اور کسانوں کے تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ ان کے خلاف درج مقدمات اور ایف آئی آرز واپس لی جائیں اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا ذمہ دار کسانوں کو نہ ٹھہرایا جائے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے خبردار کیا کہ اگر کسان کاشت کاری چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو ملک کو بڑے غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان کے ہمراہ مرکزی صدر عمیر مسعود اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
کسان رہنماؤں کے مطابق مارچ کا بنیادی مقصد کسانوں کے معاشی مسائل کا حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران گندم کے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے سال کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، تاہم حکومت نے نقصان کے اعدادوشمار کم ظاہر کیے۔ بعد ازاں کسانوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ اگلے سال حکومت ان کی گندم خریدے گی، لیکن دوسرے سال بھی سرکاری خریداری کا وعدہ پورا نہیں ہوا اور نجی شعبہ بھی مؤثر انداز میں مارکیٹ میں نہیں آیا۔
کسانوں کے مطابق مسلسل نقصانات کے باعث گندم کی کاشت میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا غذائی مرکز سمجھے جانے والے پنجاب کو اپنی ضروریات کے لیے بھی گندم کے بحران کا سامنا ہے۔
کسان رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف حکومت گندم کی ڈی ریگولیشن کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری جانب کسانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر گندم قبضے میں لی جاتی ہے اور اسے دوسرے صوبوں تک منتقل کرنے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
کسان اتحاد کے صدر عمیر مسعود نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن کسانوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے مؤثر سبسڈی اور پنجاب حکومت کی جانب سے مناسب ریلیف نہیں مل رہا۔