تیرہ وادی کے پانچ کمیونٹی اسکولوں کو سات تیار کلاس رومز فراہم کر دیے گئے
خیبر: خیبر ضلع کی وادی تیراہ، بالائی باڑہ کے پانچ غیر رسمی کمیونٹی اسکولوں کو طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے سات پری فیبریکیٹڈ کلاس رومز فراہم کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقامی محکمہ تعلیم نے کنڈاؤ جماعت اور ڈرے ونڈی دیہات میں دو، دو پری فیبریکیٹڈ کلاس رومز نصب کیے، جبکہ شیخ مالی، سندانہ اور ننگروسہ میں ایک، ایک کلاس روم فراہم کیا گیا۔
ان اسکولوں میں تقریباً 500 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جو 2022 سے باقاعدہ اسکول عمارتوں سے محروم تھے۔ 2022 میں عسکریت پسندی اور فوجی کارروائیوں کے باعث تقریباً ایک دہائی تک بے گھر رہنے والے 3 ہزار خاندان اپنے علاقوں میں واپس آئے تھے۔
مقامی کمیونٹی اسکول اس دوران انتہائی محدود سہولیات کے ساتھ چل رہے تھے۔ بعض اسکول تباہ شدہ گھروں، حجرے کے ایک حصے، مسجد یا اخروٹ کے درختوں کے نیچے قائم تھے، جہاں فرنیچر بھی موجود نہیں تھا اور ہر اسکول میں صرف ایک استاد تعینات تھا۔
ان پانچ کمیونٹی اسکولوں کے قیام میں دوستی ویلفیئر آرگنائزیشن اور فرنٹیئر کور نارتھ نے 2023 میں تعاون کیا تھا۔
سپاہ خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی نے باڑہ میں تباہ شدہ 50 سے زائد سرکاری اسکولوں کی تعمیر نو کے بعد ان کمیونٹی اسکولوں کے لیے پری فیبریکیٹڈ کلاس رومز کے حصول کی مہم شروع کی۔
اس سے قبل چائنا ایڈ نامی غیر منافع بخش ادارے نے 2016-17 میں باڑہ کے متاثرہ سرکاری اسکولوں کے لیے 25 پری فیبریکیٹڈ کلاس رومز فراہم کیے تھے تاکہ نقل مکانی کے بعد واپس آنے والے بچوں کو عارضی تعلیمی سہولت فراہم کی جا سکے۔
بعد ازاں تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو مکمل ہونے کے بعد یہ عارضی کلاس رومز مختلف مقامات پر منتقل کر کے محفوظ کر دیے گئے تھے، جہاں ان کے مستقبل کے استعمال کی ذمہ داری ضلعی محکمہ تعلیم کے پاس تھی۔
تاہم کمیونٹی اسکولوں کو یہ کلاس رومز فراہم کرنے کے لیے مقامی عمائدین اور سپاہ خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی کو تقریباً دو سال تک کوشش کرنا پڑی، جس کے بعد بالآخر پانچ اسکولوں کے لیے سات کلاس رومز کی منظوری دی گئی۔
کلاس رومز کی منتقلی اور تنصیب کے دوران مبینہ طور پر ایم پی اے عبدالغنی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، کیونکہ دونوں فریق اس اقدام کا کریڈٹ لینا چاہتے تھے۔
بعد ازاں مقامی ثالثوں کی مداخلت سے معاملہ حل ہوا اور دونوں فریقوں نے کلاس رومز کی منتقلی اور تنصیب میں تعاون پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق ضلعی محکمہ تعلیم کے حکام ابتدا میں یہ پری فیبریکیٹڈ کلاس رومز کمیونٹی اسکولوں کو دینے پر آمادہ نہیں تھے، کیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ یہ عارضی سہولیات صرف ان سرکاری اسکولوں کے لیے مختص ہیں جہاں کلاس رومز کی کمی ہے۔