دانش اسکول چشتیاں میں نوجوان طالب علم کے مبینہ طور پر بغیر اجازت باہر جانے پر انکوائری کا مطالبہ
چشتیاں: دانش اسکول چشتیاں کے ہاسٹل میں مقیم نویں جماعت کے ایک طالب علم کے 26 اگست کو مبینہ طور پر بغیر اجازت اسکول سے باہر نکلنے کے واقعے پر انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ طالب علم عبدالمالک کے معاملے پر اس کی والدہ، نبیلہ نورین، نے پنجاب دانش اسکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلنس اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر کو درخواست دے کر واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی اپیل کی ہے۔
درخواست کے مطابق عبدالمالک 26 اگست کو تقریباً دوپہر 2 بجے دانش اسکول چشتیاں کے مین گیٹ سے مبینہ طور پر بغیر اجازت باہر نکل گیا۔ چونکہ وہ بورڈنگ طالب علم ہے اور اسکول کے ہاسٹل میں رہتا ہے، اس لیے اس کے اہل خانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ بغیر اجازت اور کسی باقاعدہ نگرانی کے اسکول کی حدود سے باہر نکلنے میں کیسے کامیاب ہوا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاسٹل میں بعض طلبہ کے پاس مبینہ طور پر ایسے اسٹیمپس موجود ہیں جو گیٹ پاس جاری کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ہاسٹل میں موجود تمام اسٹیمپس اور طلبہ کو جاری کیے گئے گیٹ پاسز کی جانچ کی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہیں غیر مجاز طریقے سے کسی طالب علم کو اسکول سے باہر جانے کی اجازت تو نہیں دی گئی۔
اہل خانہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 26 اگست کی دوپہر کے وقت کی مین گیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور اس کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ مین گیٹ کا آمد و رفت کا ریکارڈ، گیٹ پاسز اور ہاسٹل حاضری رجسٹر بھی چیک کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ واقعے کے وقت موجود صورتحال واضح ہوسکے۔
درخواست میں ہاسٹل انچارج محمد شکیل سمیت پرنسپل، ہاؤس انچارج، وارڈن، سکیورٹی گارڈز اور دیگر متعلقہ عملے کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ طالب علم کے اسکول سے باہر جانے کا عمل کس طرح ممکن ہوا، اس وقت سکیورٹی پر کون تعینات تھا اور آیا کسی مرحلے پر نگرانی یا قواعد کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔
درخواست گزار نے بتایا ہے کہ عبدالمالک کا تعلق منڈی صادق گنج سے ہے اور اس کی والدہ بیوہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو بورڈنگ اسکول اس اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ ادارہ نہ صرف انہیں تعلیم فراہم کرے گا بلکہ ان کی حفاظت اور روزمرہ نگرانی بھی یقینی بنائے گا۔اس لیے کسی طالب علم کا مبینہ طور پر بغیر اجازت اسکول کی حدود سے باہر نکل جانا والدین کے لیے فطری طور پر تشویش کا باعث ہے۔
اہل خانہ نے پنجاب دانش اسکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلنس اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں، دستیاب ریکارڈ اور CCTV فوٹیج کا جائزہ لیا جائے، اور اگر کسی افسر یا ملازم کی غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
درخواست میں دانش اسکول چشتیاں کے ہاسٹل اور مین گیٹ کے سکیورٹی انتظامات کا بھی از سر نو مکمل جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کوئی طالب علم بغیر اجازت اسکول کی حدود سے باہر نہ نکل سکے۔