سوشل میڈیا پر معاملہ اٹھنے کے بعد ایس ایچ او چہلیک حنیف گجر معطل، محکمانہ کارروائی اور اعلیٰ سطحی انکوائری شروع

ملتان (نمائندہ خصوصی): سوشل میڈیا پر معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائے جانے اور پنجاب کے اعلیٰ حکام تک شکایت پہنچنے کے بعد تھانہ چہلیک کے ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد حنیف گجر کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ انہیں فوری طور پر معطل کرکے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز ملتان رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندباد ہوٹل پر پولیس چھاپے کے دوران مرد و خواتین اور ہوٹل مالکان کو حراست میں لینے، انہیں ہتھکڑیاں لگانے، تصاویر بنانے اور مبینہ طور پر تذلیل کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پنجاب پولیس کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم سے جاری سسپنشن آرڈر میں محمد حنیف گجر کو مس کنڈکٹ کے الزام میں معطل کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف علیحدہ محکمانہ کارروائی بھی شروع کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے دو رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا ایس ایچ اوحنیف گجرنے کارروائی کے دوران اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور زیرحراست افراد کی تصاویر بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر نشر کروایا یا نہیں۔

اس معاملے کی نشاندہی صحافی رؤف کلاسرا کی جانب سے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر کیے گئے تبصروں کے بعد بڑے پیمانے پر ہوئی، جس کے نتیجے میں معاملہ پنجاب کے اعلیٰ پولیس حکام تک پہنچا۔

رؤف کلاسرا کے مطابق پولیس کارروائی کے دوران بنائی گئی بعض تصاویر کو انہوں نے متاثرہ افراد کی شناخت چھپانے کے لیے دھندلا کیا، جبکہ الزام ہے کہ اصل تصاویر ایس ایچ او کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں۔ ان کے مطابق ایس ایچ او نے مبینہ طور پر اپنی کارروائی کی تشہیر کے لیے ایک بینر بھی بنوایا، جس پر "گجر کا نام بولتا ہے، گجر کا کام بولتا ہے” درج تھا۔

معاملے پر اب محکمانہ انکوائری جاری ہے، جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ پولیس کارروائی قانون اور محکمانہ ضابطوں کے مطابق تھی یا اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں