لاہور میں پولیس حراست کے بعد دو خواتین کی ہلاکت، لواحقین کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

لاہور ( نمائندہ خصوصی) لاہور کے علاقوں ٹاؤن شپ اور لٹن روڈ سے تعلق رکھنے والی دو نوجوان خواتین، 18 سالہ انمول بی بی اور 20 سالہ آمنہ، پولیس حراست کے بعد پراسرار حالات میں جاں بحق ہو گئیں، جس کے بعد واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق دونوں خواتین آپس میں نند اور بھاوج تھیں، کم عمر بچوں کی مائیں تھیں اور معاشی مشکلات کے باعث بازاروں میں پنسلیں فروخت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ خواتین شام کے وقت گھر واپس نہ آئیں، بعد ازاں پولیس نے اطلاع دی کہ وہ تھانے میں موجود ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق کچھ دیر بعد انہیں دوبارہ فون کر کے جناح ہسپتال پہنچنے کا کہا گیا، جہاں دونوں خواتین کی وفات کی اطلاع دی گئی۔

پولیس کے مطابق خواتین کو مبینہ طور پر چھ لاکھ روپے مالیت کی سونے کی چین چوری کے ایک مقدمے کے سلسلے میں تحویل میں لیا گیا تھا۔ تاہم اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ایف آئی آر میں دونوں خواتین کے نام شامل نہیں تھے۔ لواحقین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ متوفیات کے جسموں پر تشدد کے نشانات موجود تھے، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا غیر قانونی اقدام ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف اور واقعے کی حتمی وجوہات تفتیش اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔

متعلقہ خبریں