چشتیاں میں پٹواری پر مبینہ تشدد، سرکاری ریکارڈ چھیننے کا الزام، بااثر سیاسی شخصیت کے قریبی افراد پر سنگین الزامات،مقامی پولیس بے بس
چشتیاں (نمائندہ خصوصی): چشتیاں میں محکمہ ریونیو کے ایک پٹواری پر اس کے سرکاری دفتر میں مبینہ طور پر تشدد کیے جانے اور حساس سرکاری ریکارڈ چھین کر لے جانے کے واقعے نے علاقے میں قانون کی عملداری، سرکاری ملازمین کے تحفظ اور مبینہ لینڈ مافیا کی سرگرمیوں پر تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
متاثرہ پٹواری حسیب اللہ، جو موضع 34/F اور 14/G میں تعینات ہیں، نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں الزام عائد کیا ہے کہ ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب انہوں نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ایک اراضی سے متعلق فرد جاری کرنے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق انہیں پہلے خالد نامی ایک شخص نے کال کر کے بدتمیزی کی اور اسکے بعد کسی اور شخص کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس نے اپنا نام سعد بتایا اور خود کو ایک بااثر مقامی سیاسی شخصیت کا ذاتی سیکریٹری ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر بغیر تصدیق فرد جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ پٹواری کے مطابق انکار کرنے پر اس نے فون پر گالیاں اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور بعد ازاں 6 سے 7 افراد ان کے سرکاری دفتر میں داخل ہوئے، جہاں انہیں مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مقامی پولیس کو15 ہیلپ لائن پہ کال کرنے کے باوجود شر پسند اور غنڈہ عناصر کے خلاف پولیس کی جانب سے آخری اطلاعات آنے تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
حسیب اللہ کا مزید الزام ہے کہ حملہ آور جاتے ہوئے اراضی اور جائیداد سے متعلق حساس سرکاری ریکارڈ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واقعے کے خلاف پٹوار یونین چشتیاں نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد نے پہلے فون پر دھمکیاں دیں، پھر گالم گلوچ کی اور بعد ازاں غنڈے بھیج کر سرکاری دفتر میں حملہ کروایا۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، سرکاری ریکارڈ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور غنڈہ گرد عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کے بعد یہ الزامات بھی دوبارہ زیر بحث آ گئے ہیں کہ ماضی میں بھی مبینہ طور پر اسی قبضہ گروپ سے وابستہ افراد نے بعض مقامی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، تاہم مبینہ سیاسی سرپرستی کے باعث ان معاملات میں مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔
تاحال مقامی پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ تمام الزامات تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نتائج سے مشروط ہیں۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی شفاف انکوائری کروا کر ذمہ داران کو قرارکواقعی سزا دلوائی جائے تاکہ شہری اس غنڈہ گردی سے محفوظ رہ سکیں۔